امریکہ اور ایران کے مابین فوری جنگ بندی معاہدہ ناممکن کیوں؟

امریکہ اور ایران کے مابین فوری جنگ بندی معاہدہ ناممکن کیوں؟
خطے میں بدلتے ہوئے سفارتی معمولات کےدوران ایران اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے: کیا پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا ایک بار پھر مذاکرات کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مختصر عرصے میں پاکستان کے مسلسل دورے اس سوال کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا دو دنوں میں دو مرتبہ پاکستان کا دورہ محض ایک سفارتی معمول نہیں بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ پس پردہ کوئی سنجیدہ مشاورت جاری ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے ان ملاقاتوں کو مفید قرار دیا ہے، مگر ان کا یہ بیان کہ “ابھی دیکھنا ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں” ایک محتاط اور حقیقت پسندانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس جملے میں امید بھی ہے اور شکوک بھی، جو اس پورے مذاکراتی عمل کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے پے در پے دوروں کو کسی فوری بریک تھرو کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق یہ ایک تدریجی سفارتی عمل ہے، جس میں اعتماد سازی، مسلسل رابطے اور کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ مفاہمت کے لیے وقت درکار ہوگا۔ دوسری جانب ایران کی حکمت عملی بھی خاصی واضح نظر آتی ہے۔ سابق سفارتکار مسعود خالد کے مطابق ایران امریکا سے براہ راست مذاکرات سے قبل اپنے علاقائی شراکت داروںخصوصاً عمان اور روس سے قریبی مشاورت کر رہا ہے۔ یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران کسی جلد بازی کی بجائے ایک مربوط اور کثیرالجہتی سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ عمان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان بیک چینل سفارت کاری میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ روس ایران کے لیے ایک سٹریٹجک سہارا فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عباس عراقچی کا پاکستان سے عمان اور پھر روس کا رخ کرنا ایک مربوط سفارتی نقشے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا کردار بھی اس تمام عمل میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسلام آباد نہ صرف ایک سہولت کار کے طور پر بلکہ ممکنہ ثالث کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں آ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس سارے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی، پابندیاں اور سیاسی اختلافات فوری طور پر ختم نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک بظاہر محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی بڑا معاہدہ قریب ہے، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے کھل چکے ہیں۔ عباس عراقچی کے دورے اسی خاموش سفارت کاری کی ایک کڑی ہیں، جو مستقبل میں کسی بڑی پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب اور کس شرائط پر ہوں گے۔ موجودہ پیشرفتیں اس بات کا اشارہ ضرور دیتی ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے بجائے بات چیت کے راستے کو مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی وجہ سے سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک مذاکراتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
