ٹرمپ کی شکست پر پاکستان مشکل میں کیوں؟

پاکستان نے گزشتہ 2 برس کے دوران واشنگٹن میں اپنی سفارتی حکمت عملی بڑی حد تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر مرکوز رکھی، لیکن امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے اسلام آباد کے لیے ایک نیا سفارتی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ سے قائم کیے گئے قریبی روابط، اربوں ڈالر کے مالیاتی معاملات اور صدر کے خاندان سے منسلک کاروباری معاہدے مستقبل میں بھی اسی طرح برقرار رہ سکیں گے؟ جس سفارت کاری کو پاکستان نے واشنگٹن میں کامیابی کا راستہ سمجھا، وہی اب کانگریس کی جانچ پڑتال اور سیاسی اختلافات کی زد میں آنے کا خدشہ پیدا کر رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے امریکی سیاست کے ایک اہم فریق سے قربت تو بڑھائی، لیکن دوسری بڑی جماعت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مطلوبہ سنجیدگی نہیں دکھائی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کے بعد پاکستان کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں تک اس کی رسائی اور ان سے کیے گئے معاہدوں پر کانگریس میں سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں پاکستان کے ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے 1 ارب 25 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی تھی، تاہم امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت حاصل کرنے کی پاکستانی درخواست تاحال زیرِ انتظار ہے۔ اس صورت حال میں امریکی سیاسی منظرنامے کی تبدیلی پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی دونوں حوالوں سے اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
پاکستان کے لیے زیادہ حساس معاملہ وہ معاہدے ہیں جن میں صدر ٹرمپ کے خاندان یا ان کے قریبی ساتھیوں کے کاروباری مفادات وابستہ بتائے جاتے ہیں۔ اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی ڈیجیٹل کرنسی یو ایس ڈی ون کے ذریعے ادائیگیوں کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اسی طرح نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر کے لیے بھی ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی، جس پر بات چیت میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے پاورَس نامی کمپنی سے محدود تعداد میں ڈرون خریدنے کا آرڈر بھی دیا، جس کے سرمایہ کاروں میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں ان معاملات پر مفادات کے ٹکراؤ کے تاثر کو مسترد کیا تھا۔
واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ مفادات اور لین دین پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے منسلک بعض معاہدے مستقبل میں برقرار نہ رہ سکیں اور پاکستان ایسی ممکنہ جانچ پڑتال کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ واشنگٹن کے اسٹمسن سینٹر سے وابستہ ڈینیئل مارکی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان معاہدوں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ فیصلے قومی مفاد کے بجائے نجی کاروباری مفادات کے تحت کیے گئے تو اس کے اثرات صرف مخصوص منصوبوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان اور امریکا کے وسیع تر تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
تاہم تمام مبصرین اس صورت حال کو پاکستان کے لیے سفارتی نقصان نہیں سمجھتے۔ اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران سے متعلق سفارت کاری ایسے شعبے ہیں جنہیں امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں میں حمایت حاصل ہے۔ ان کے خیال میں ڈیموکریٹس متنازعہ کاروباری معاہدوں کا ذمہ دار پاکستان کے بجائے صدر ٹرمپ کو ٹھہرا سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنی سفارتی امیدیں وائٹ ہاؤس سے اس قدر وابستہ کر لیں کہ اب ڈیموکریٹس کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات استوار کرنے کے لیے اس کے پاس زیادہ گنجائش باقی نہیں رہی۔
دوسری جانب عام پاکستانی امریکی سیاسی تبدیلی سے مہنگائی میں کمی اور ایران جنگ کے خاتمے جیسی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں، لیکن امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے پاکستان میں مہنگائی فوری کم ہونے یا ایران جنگ ختم ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ملتی۔ ان معاملات کا انحصار وسیع تر امریکی پالیسی، عالمی حالات اور متعلقہ حکومتوں کے فیصلوں پر ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری کا بنیادی مسئلہ کسی ایک امریکی صدر یا جماعت سے قربت نہیں بلکہ واشنگٹن میں مستقل، ادارہ جاتی اور دوطرفہ سیاسی روابط کا فقدان ہے۔ امریکہ میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، کانگریس کا سیاسی توازن تبدیل ہوتا رہتا ہے اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر بھی اختلافات سامنے آتے ہیں۔ ایسی صورت میں کسی ایک شخصیت یا انتظامیہ پر غیر معمولی انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے ہوں گے، کیونکہ شخصیات سے وابستہ سفارت کاری وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، لیکن مستقل قومی مفادات کا متبادل نہیں بن سکتی۔
