پاکستانی سستی ایل پی جی گیس مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیوں؟

پاکستان میں مہنگائی کا ایک اور سنگین بحران گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔ ایل پی جی کا سرکاری نرخ تقریباً 295 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن بازار میں یہی گیس 550 سے 700 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں گیس مہنگی کیوں ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے قیمت مقرر کر رکھی ہے تو عوام کو اس نرخ پر گیس فراہم کرنے میں ریاستی مشینری کیوں ناکام ہے؟ کیا قیمتوں کا سرکاری نوٹیفکیشن صرف کاغذی کارروائی ہے اور اصل اختیار ذخیرہ اندوزوں، درآمد کنندگان اور منافع خوروں کے ہاتھ میں ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی محمد صغیر نے 12 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 6500 روپے میں خریدا، جس کے حساب سے فی کلو قیمت 550 روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے ہر 10 روز بعد سلنڈر مہنگا ہو رہا ہے اور اب گھر میں ایک وقت کا کھانا پکانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ مالی مشکلات کے باعث انہیں اپنے بچوں کو اسکول سے بھی نکالنا پڑا۔ یہ محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں گھرانوں کی معاشی بے بسی کی تصویر ہے جن کے علاقوں میں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے اعتراف کیا ہے کہ کھلی منڈی میں ایل پی جی سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد مغربی سرحدوں کی بندش، رسد میں رکاوٹ، افراتفری اور ذخیرہ اندوزی نے بحران کو مزید سنگین بنایا۔ وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ بعض منافع خور عناصر نے ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچا دی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک سرحدی بندش اور عالمی حالات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ضروری ایندھن کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور منڈی میں قیمتوں کی نگرانی یقینی بنائے۔ اگر سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں تقریباً دوگنا فرق پیدا ہو جائے تو یہ محض رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومتی نگرانی اور انتظامی صلاحیت پر بھی بڑا سوال ہے۔
وزیر توانائی نے بحران کی ایک اہم وجہ ایل پی جی کے درآمدی نظام کی کمزوری اور ذخیرہ کرنے کے ناکافی انتظامات کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب بھی پریشرائزڈ کنٹینرز کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرتا ہے، چھوٹے کنٹینرز آسانی سے دستیاب نہیں اور بڑے گیس بردار جہازوں کو لنگرانداز کرنے کے لیے بندرگاہوں پر مطلوبہ سہولتیں موجود نہیں۔ مزید یہ کہ گیس ذخیرہ کرنے کا بنیادی ڈھانچہ بھی ناکافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان کی یومیہ طلب 6500 سے 7000 ٹن ہے اور مقامی پیداوار صرف 2000 سے 2500 ٹن کے درمیان ہے تو باقی ضرورت پوری کرنے کے لیے مؤثر درآمدی اور ذخیرہ کرنے کا نظام پہلے کیوں نہیں بنایا گیا؟ ماہرین کے خیال میں توانائی کے شعبے میں برسوں کی منصوبہ بندی کی کمی کا بوجھ اب براہ راست عام صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
بحران کا اثر صرف گھریلو چولہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہوٹلوں، ریستورانوں، تندوروں اور چھوٹے کاروباروں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک ریستوران کے 45 کلوگرام سلنڈر کی قیمت ایک ماہ پہلے 14 سے 15 ہزار روپے تھی، جو اب بڑھ کر 24 سے 25 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ کوئٹہ میں ایک ہوٹل مالک کے مطابق گیس کی قلت اور مہنگائی کے باعث انہیں اپنے 3 میں سے 2 ہوٹل بند کرنا پڑے۔ پشاور میں تندور مالکان آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث منافع ختم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں، جبکہ ایک ہوٹل مالک کا کہنا ہے کہ وہ 10 روز سے ملازمین کو اجرت ادا نہیں کر سکے۔ مبصرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر تیز اضافے کا نتیجہ صرف کاروباری نقصان نہیں بلکہ روزگار میں کمی، مہنگے کھانے اور عام شہری کی قوت خرید میں مزید گراوٹ کی صورت میں بھی نکلے گا۔
حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایل پی جی کے شعبے میں نئی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق چند مخصوص افراد کو حاصل درآمدی اور فروخت کے کوٹے ختم کرکے مسابقتی نظام لایا جا رہا ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل، پارکو ایل پی جی، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس ایل پی جی کو دوبارہ درآمدات شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ درآمدی ایل پی جی نظام میں شامل ہونے سے قیمت تقریباً 450 روپے فی کلو تک آ سکتی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مقامی پیداوار کی فروخت نیلامی کے ذریعے ہوگی، جبکہ مقامی اور درآمدی قیمتوں کے فرق سے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحق افراد کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے نئی پالیسی کے فوری نتائج پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باعث نئی پالیسی سے گیس مزید مہنگی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی پر تقریباً 100 روپے فی کلو ٹیکس اور دیگر حکومتی چارجز عائد ہیں، جنہیں کم کرکے قیمتوں میں فوری ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مقامی سطح پر دستیاب گیس کو درآمدی گیس کے نرخوں پر فروخت کرکے بعض عناصر نے بھاری منافع کمایا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ٹیکسوں اور ٹرمینل چارجز میں کمی کے ساتھ منافع خوری کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بھی کرائی جائیں۔
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے سامنے اصل امتحان نئی پالیسی کا اعلان نہیں بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ اگر کوٹہ سسٹم ختم ہونے کے باوجود درآمدات چند نئے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئیں، نیلامی کے عمل میں شفافیت نہ آئی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو مسابقت کے دعوے بھی عوام کو ریلیف نہیں دے سکیں گے۔ اسی طرح صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحق افراد کو رعایت دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں، کیونکہ ایل پی جی پر انحصار کرنے والے متوسط اور کم آمدن کے ایسے گھرانے بھی ہیں جو امدادی پروگراموں میں شامل نہیں لیکن موجودہ قیمتیں برداشت کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کی پالیسی کا بوجھ بار بار عام شہری کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک طرف سرکاری نرخ کا اعلان ہوتا ہے، دوسری طرف صارفین کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں؛ ایک طرف حکومت اجارہ داری ختم کرنے کی بات کرتی ہے، دوسری طرف برسوں سے موجود ذخیرہ کرنے اور درآمدات کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے صرف نئے نظام کا اعلان کرنے کے بجائے سپلائی چین کی نگرانی، درآمدی سہولتوں کی بہتری، ٹیکسوں پر نظرثانی، شفاف نیلامی اور منافع خوروں کے خلاف عملی کارروائی کرنا ہوگی۔ ورنہ 295 روپے کا سرکاری نرخ محض ایک عدد بن کر رہ جائے گا اور عوام اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے دگنی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔

One Comment