کیا واقعی نون لیگ اور ق لیگ کا اتحاد خطرے میں ہے؟

پاکستان کی سیاست میں اتحادی حکومتوں کے اختلافات اکثر بند کمروں میں طے ہوتے ہیں، لیکن جب ایک اتحادی جماعت کا وفاقی وزیر اپنی ہی حکومت کی اتحادی جماعت کے زیرِ انتظام صوبے میں کرپشن کے الزامات لگائے اور وزیراعلیٰ جواب میں 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دے تو معاملہ محض بیان بازی تک محدود نہیں رہتا۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی نے دونوں جماعتوں کے سیاسی تعلقات، حکومتی شراکت داری اور قیادت کے درمیان اعتماد پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چوہدری سالک حسین اپنے الزامات پر قائم ہیں، مریم نواز انہیں واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ خواجہ آصف اس تنازع کو ایک نئے سیاسی گروپ کی تشکیل کی کوششوں سے جوڑ رہے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلاف گجرات میں ایک افسر کی تعیناتی تک محدود ہے یا اس کے پیچھے حکومتی اختیار، سیاسی اثرورسوخ اور مستقبل کی سیاسی صف بندی کے معاملات بھی موجود ہیں؟

تنازع کا آغاز وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے ایک ٹی وی انٹرویو سے ہوا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں روزانہ پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں اور ان میں سے بعض باتوں میں حقیقت بھی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر چکی ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اٹک میں طلبہ سے خطاب کے دوران ان بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹے الزامات برداشت نہیں کریں گی۔ اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائے، بصورت دیگر عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر کے عہدے پر کیوں موجود ہیں؟

مریم نواز نے اس تنازع کو گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی سے بھی جوڑا اور کہا کہ ان کی حکومت میں تعیناتیاں میرٹ پر ہوتی ہیں اور وہ کسی کی سفارش قبول نہیں کرتیں۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا گیا، جس میں ان کے بیانات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے الزامات واپس لیں، غیر مشروط معافی مانگیں اور بیانات کی تصحیح کریں۔ دوسری جانب چوہدری سالک حسین نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کی بنیاد پر بات کرتے رہے ہیں اور پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی نوٹس کا جواب دیا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاملے کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے خلاف کرپشن کے الزامات دراصل اس کی ساکھ متاثر کرکے ایک متبادل سیاسی انتظام کے لیے جگہ بنانے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض سرمایہ دار بھی گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے متحرک ہیں اور ایک نئے سیاسی گروپ کی تشکیل کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں تقریباً 2 سال باقی ہیں اور بعض افراد موجودہ سیاسی قیادت کی جگہ نئی ٹیم کو متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ خواجہ آصف کا سیاسی تجزیہ اور الزام ہے؛ کسی نئے گروپ کی تشکیل یا اس تنازع سے اس کے تعلق کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اس دوران چوہدری سالک حسین کے بڑے بھائی اور پنجاب کے وزیر صنعت و سرمایہ کاری چوہدری شافع حسین نے بھی اپنا مؤقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی سے نہ کبھی دور ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ ان کے مطابق چوہدری سالک حسین ایک آزاد شخصیت ہیں اور اپنی رائے رکھتے ہیں، جبکہ ممکن ہے ان کے پاس ایسی معلومات ہوں جن سے وہ خود واقف نہ ہوں۔ چوہدری شافع حسین کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے اپنے بیان میں نہ وزیراعلیٰ پنجاب کا نام لیا اور نہ ہی پنجاب حکومت کو براہ راست مخاطب کیا بلکہ نظام میں موجود بدعنوانی کی نشاندہی کی، جس کے وجود سے سب متفق ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں کو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ چوہدری شافع حسین پنجاب کابینہ کا حصہ رہیں گے اور انہیں کابینہ سے الگ کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ تاہم انہوں نے چوہدری سالک حسین کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی حکومتی شراکت داری کا خیال رکھنا چاہیے۔

سینیئر صحافی احمد ولید کے مطابق اس تنازع کی ابتدا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد ہوئی کہ نظام درست انداز میں کام نہیں کر رہا۔ اس کے بعد چوہدری سالک حسین نے پنجاب حکومت میں کرپشن کے معاملات اٹھائے۔ ان کے خیال میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے سرکاری جہاز سے متعلق معاملے کے بعد بھی صورتحال میں کشیدگی بڑھی اور اب حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بھی پنجاب حکومت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احمد ولید کا کہنا ہے کہ چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر ہیں، اس لیے انہیں ایسے الزامات پہلے وزیراعظم کے سامنے اور وفاقی کابینہ میں اٹھانے چاہییں تھے تاکہ مبینہ بدعنوانی کے معاملات کی باقاعدہ نشاندہی ہو سکتی۔ ان کے مطابق اگر چوہدری سالک حسین اپنے مؤقف پر قائم ہیں تو انہیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ پنجاب میں کرپشن کہاں اور کس سطح پر ہو رہی ہے۔

سینیئر صحافی سلمان غنی کے مطابق کسی سیاسی مخالف کی جانب سے حکومت پر کرپشن کے الزامات لگنا ایک الگ بات ہے، لیکن جب حکومت کا اپنا اتحادی اور وفاقی وزیر اس نوعیت کے الزامات عائد کرے تو اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں رہتا۔ ان کے خیال میں اسی وجہ سے مریم نواز نے سخت ردعمل دیا۔ سلمان غنی نے دونوں خاندانوں کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور نواز شریف کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود احترام کا رشتہ برقرار رہا ہے۔ نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے کلثوم نواز کا ساتھ دینا بھی اسی تعلق کی ایک مثال ہے۔ ان کے مطابق دونوں خاندانوں کے بزرگ نہیں چاہیں گے کہ موجودہ تنازع اس دیرینہ سیاسی اور ذاتی تعلق کو ختم کرنے کا سبب بنے۔

سلمان غنی کا کہنا ہے کہ اگر اختلاف صرف گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی یا تبادلے تک محدود ہے تو نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کی مداخلت سے مفاہمت کی گنجائش موجود ہے، لیکن اگر اس کے پیچھے دیگر سیاسی اور انتظامی معاملات بھی شامل ہیں تو صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتیں اور چوہدری سالک حسین بھی الزامات واپس لینے کا عندیہ نہیں دے رہے۔ ایسی صورت میں معاملہ استعفوں تک پہنچ سکتا ہے اور دونوں جماعتوں کی حکومتی شراکت داری متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر چوہدری سالک حسین اپنے الزامات واپس نہیں لیتے تو مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک اس تنازع میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ایک ہی حکومتی بندوبست کے دو اتحادی عوامی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔ چوہدری سالک حسین کے الزامات کی سچائی کا فیصلہ شواہد اور متعلقہ تحقیقات سے ہی ہو سکتا ہے، جبکہ مریم نواز کے قانونی نوٹس کے بعد معاملہ سیاسی بیان بازی سے قانونی محاذ پر بھی منتقل ہو چکا ہے۔ اگر الزامات درست ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر وہ بے بنیاد ہیں تو قانونی کارروائی کے ذریعے اس کا تعین ہونا چاہیے۔ محض الزامات اور جوابی دھمکیوں سے نہ کرپشن کا مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔

اب نگاہیں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین پر ہیں کہ وہ اپنے دیرینہ تعلقات اور سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرکے اس اختلاف کو کس حد تک کم کر پاتے ہیں۔ تاہم اس تنازع کا حتمی رخ صرف دونوں بزرگوں کی مداخلت سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی متعین ہوگا کہ چوہدری سالک حسین اپنے الزامات کے حق میں کیا شواہد پیش کرتے ہیں اور مریم نواز قانونی نوٹس کے معاملے کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہیں۔ فی الحال مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کے خاتمے کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی عوامی کشیدگی نے ان کے سیاسی تعلقات کو ایک اہم امتحان میں ضرور ڈال دیا ہے۔

Back to top button