کیا واقعی سیاسی منظر نامے پر کچھ بڑا ہونے والا ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ سب پریشان ہیں۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک چل رہا ہے نہ نظام۔ لہذا ایک بات یقینی ہے کہ معاملات اب زیادہ دیر اس طرح نہیں چل سکتے اور کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا چونکہ نہ تو ملک چل رہا ہے اور نہ ہی نظام چل پا رہا ہے۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں صافی کہتے ہیں کہ میں ملک کی موجودہ صورت حال میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنی فہم کے مطابق سیاست کے تمام کرداروں کی سوچ عوام کے سامنے رکھ دوں۔ پہلے تذکرہ کرتے ہیں، اس اہم ترین طاقت ور ادارے کا، جسکے گرد سارے فارمولے گھومتے ہیں اور عمران خان کا اقتدار جس کے کمالات کا مرہون منت ہے۔ فوج کا نام لیے بغیر سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس کردار نے پچھلے چار سال میں عمران خان کی خاطر جو کچھ کیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ان کی پارٹی میں لوگ شامل کرائے، ان کو عدالتوں سے بچایا، ان کے مخالفین کو عدالتوں سے بے دست وپا کرایا۔ میڈیا کے ذریعے انہیں ہیرو اور ان کے مخالفین کو زیرو بناکے رکھ دیا۔ ایم کیو ایم اور پی ایم ایل (ق) کے ان سے جبری اتحاد کروائے۔

غرض اس ادارے نے عمران خان کے لیے وہ کچھ کیا جو سگی ماں بھی بچے کے لیے نہیں کرسکتی۔ لیکن کپتان نے اپنے ’’کارناموں‘‘ سے انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک بدنام کیا۔ اس ادارے نے ایک مشفق ماں کی مانند عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ ملک بچانے کی خاطر سیاسی مخالفین سے ذرا نرمی برتیں لیکن عمران کو اپنی بقا اس میں نظر آتی ہے کہ اپوزیشن اس ادارے کے ساتھ الجھی رہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب یہ ادارہ عمران خان کی گیم سمجھ گیا تو اس نے زرداری اور شریفوں کو کچھ رعایتیں دیں جس پر عمران بھڑک اٹھے اور اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ چنانچہ ادارہ پیچھے ہٹ گیا۔ اب وہ کھلی مداخلت کی بجائے صرف بچ بچائو کرارہا ہے۔ مثلاً کپتان چاہتا ہے کہ آصف زرداری، شہباز شریف اور جہانگیر ترین کو جلد ازجلد دوبارہ گرفتار کروا لیا جائے لیکن وہ بچ بچائو کرارہا ہے۔ اس ادارے کے ہاں تبدیلی آگئی ہے۔ وہ ہر وقت ہر فریق کو بار بار باور کرارہا ہے کہ وہ غیرجانبدار ہوگیا ہے لیکن کوئی فریق یقین کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت ہو کہ اپوزیشن، اسے گزشتہ چار سال کے اس کے کردار کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

جب کپتان دیکھتا ہے کہ ادارہ گزشتہ چار سال کی طرح ڈنڈا اٹھا کر اسکے لیے عدلیہ، میڈیا اور سیاست دانوں کو ان کے حق میں استعمال نہیں کر رہا تو اسے شک ہوجاتا ہے کہ اسے رخصت کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن سوچ رہی ہے کہ اگر واقعی ادارہ غیرجانبدار ہوگیا ہے تو پھر عمران خان کو رخصت کرکے ہمارے سامنے تیار فارمولہ کیوں پیش نہیں کیا جارہا۔ تاہم ادھر موڈ یہ نظر آتا ہے کہ وہ عمران کی رخصتی میں حصہ ڈالنے کا تاثر دینا چاہتا ہے اور نہ اپوزیشن کے سامنے کبھی کوئی فارمولہ پیش کرے گا۔ ہاں البتہ اگر اپوزیشن رخصتی کا کوئی فارمولہ سامنے لے آئے تو شاید وہ ماضی کی طرح عمران کے لیے ڈھال نہ بنے۔ ایک طرف عمران بار بار اس ادارے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے اور دوسری طرف اپوزیشن بھی۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب دوسرے کردار یعنی پیپلز پارٹی کی طرف آتے ہیں۔ اس وقت زرداری صاحب اور بلاول مل کر اسی طاقتور ادارے کے دروازے پر سوالی بن کر بیٹھے ہیں۔ وہ ہر طرح کی تابعداری کے لیے تیار ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ تنہا مسئلہ حل نہیں کرسکتی۔ اس کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی میں جو سینکڑوں لوگ عمران احمد خان نیازی کو چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، ان سب کو ان کے سپرد کیا جائے۔

نسلہ ٹاور کیس:ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنی تعداد میں پی ٹی آئی سے لوگ توڑے جاتے ہیں تو پھر خود پی ٹی آئی کے اندر سے کوئی اسد عمر جیسا وزیر اعظم کیوں نہ بنایا جائے جو درپردہ اس مشن پر لگے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ن لیگ ڈیل کی کوششوں میں بھی مصروف ہے لیکن اگر مگر سے بھی کام لے رہی ہے۔ اس خوف نے کہ کہیں عمران کو نئے آرمی چیف کی تقرری کا موقع نہ مل جائے، وہ انقلابی بیانیے کو دفن کرچکی ہے لیکن ایک تو گھر کے اندر کی کنفیوژن کو دور نہیں کر سکتی اور دوسرا انقلابی بیانیے کی وجہ سے شرما بھی رہی ہے۔

حالانکہ بڑے میاں صاحب بھی زرداری صاحب کی طرح وہ کچھ آفر کر رہے ہیں، جو ان سے کسی نے مانگا نہیں لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ عدم اعتماد کے بعد فوری دوبارہ انتخاب چاہتے ہیں جبکہ زرداری صاحب فوری انتخاب سے ڈرے ہوئے ہیں، وہ چاہتے ہیں اور خود نظام لانے والے بھی چاہتے ہیں کہ عمران نیازی کے مائنس ہوجانے کے بعد اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔

بقول صافی اس منظر نامے کے تیسرے کردار مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ انہیں اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو نواز شریف نے قائل کرلیا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دینے پر اصرار نہ کریں کیونکہ ان کی بات بننے والی ہے اور اسمبلی کے اندر تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن وہ تفصیلات شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ یہی یقین دہانی مولانا کو بلاول اور زرداری بھی کرارہے ہیں لیکن کس سے، کس سطح کی بات ہوئی ہے، یہ وہ بھی نہیں بتا رہے۔ جواب میں مولانا نے بھی اپنے کارڈز سینے سے لگا کے رکھے ہیں۔

پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مابین کوئی متفقہ فارمولہ مولانا ہی سامنے لاسکتے ہیں لیکن جب وہ اپنے کارڈز اور حقائق ان کے سامنے رکھنے کو تیار نہیں تو پھر کیوں کر وہ کوئی فارمولہ بناسکیں گے ؟

بقول صافی، چوتھے اور اہم ترین کردار عمران خان ہیں۔جب انہیں اندازہ ہوگیا کہ ماضی کی طرح ان کے لیے ادارے ڈھال بننے کو تیار نہیں تووہ حسبِ عادت بلیک میلنگ پر اتر آئے لیکن جب انہیں لگا کہ دوسرا فریق بلیک میل نہیں ہورہا تو یوٹرن لے کر وہ دوبارہ ادارے کی تابعداری کرنے لگ گے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ بلیک میلنگ سے بھی باز نہیں آرہے۔ کپتان ایک طرف اپنے وزیروں سے یہ پروپیگنڈا کروارہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں ہورہی ہیں اور دوسری طرف انہی کے ذریعے خلوتوں میں یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ جیسے ان سے کچھ مانگا جارہا ہے جو وہ تو نہیں دے رہے ہیں لیکن اپوزیشن دینے پر آمادہ ہوگئی ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تویہ بات اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی یقین کے ساتھ پیشنگوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم ایک بات یقینی ہے کہ یہ معاملہ زیادہ دیر اس طرح نہیں چل سکتا اور کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ وجہ صاف ظاہر ہے ملک چل رہا ہے اور نہ نظام۔

Back to top button