جنگ اخبار نے اداریہ بیکار اور پرانا قرار دے کر ختم کر دیا

پاکستان کے سب سے قدیم اشاعتی ادارے جنگ گروپ کے سب سے بڑے اردو اخبار جنگ نے ادارتی صفحے پر 75 برسوں سے مستقل بنیادوں پر روزانہ شائع ہونے والے اداریے کو پرانا اور بیکار فارمیٹ قرار دے کر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔
روزنامہ جنگ کی انتظامیہ نے اخبار میں چھپنے والے اداریے کو مستقل بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دنیا کے بڑے بڑے اخبارات نے اپنے اداریے بند کر دیے ہیں، اس لیے جنگ نے بھی اپنا اداریہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ فارمیٹ آؤٹ آف فیشن ہو گیا تھا اور ویسے بھی اداریے میں قارئین کی دلچسپی تقریبا ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ روزنامہ جنگ کے ایک سینیئر ایڈیٹر نے بتایا کہ دنیا بھر کے بڑے اخبارات بشمول برطانوی اخبار ’گارڈین‘ نے اپنا اداریہ ختم کر دیا ہے، حالانکہ وہ اپنے اداریے میں بڑے پیمانے پر اپنے خیالات کو اظہار کرنے کے باعث شہرت رکھتا تھا۔ اس طرح ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ اور ’نیو یارک ٹائمز‘ نے بھی اپنے اپنے اداریے مستقل طور پر بند کر دیے ہیں۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی بڑے اخبارات نے اپنے اداریوں کی تعداد بھی کم کی ہے اور انہیں مختصر بھی کر دیا ہے لیکن انہوں نے اداریہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔ نیویارک ٹائمز ابھی تک اداریے چھاپ رہا ہے، البتہ یہ ہر روز نہیں آتا۔ ان کا آخری اداریہ 5 ستمبر 2025 کو شائع ہوا تھا۔ البتہ ایک اہم امریکی اخبار ’شکاگو سن ٹائمز‘ نے اس سال مارچ میں اخباری اداریہ چھاپنا بند کر دیا تھا۔
روزنامہ جنگ کی انتظامیہ کے بقول، ’دنیا بھر کی اخباری صحافت میں جو تبدیلی آ رہی ہے، اس کے تحت ہم نے بھی اداریہ بند کر دیا ہے۔ پاکستانی اخبارات دنیا کے ساتھ نہیں چل رہے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں وہی چھپتا ہے جو ایک دن پہلے ٹیلی ویژن پر چل چکا ہوتا ہے، وہی سب کچھ دوسرے روز کے اخبارات میں چھاپا جاتا ہے جس میں کچھ نیا نہیں ہوتا۔
روزنامہ جنگ کے سینیئر ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر صحافت کے فلسفے میں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے فلسفے کے تحت ہر اخبار اپنی پالیسی اداریے میں لکھ کر پیش کرتا تھا، مگر اب ایسا نہیں رہا۔ ادارے کی پالیسی تو اپنی جگہ پر موجود ہے مگر اس پالیسی کا لکھ کر اظہار نہیں کیا جا سکتا، اب اخبار کی پالیسی کا اظہار اس کی خبروں میں ہو رہا ہے۔ روزنامہ جنگ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر رکن نے اداریہ ختم کرنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا ٹی وی چینلز کی نشریات میں کوئی اداریہ نشر کیا جاتا ہے؟ اس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اپنی پالیسی کا اظہار کرنے کے لیے کوئی اداریہ نہیں چھاپتے۔ انہوں نے کہا کہ ’اخبار میں مختلف خیالات کو جگہ دی جانی چاہیے، نہ کہ اپنے خیالات کو دوسروں پر تھوپنا چاہیے۔ ساری دنیا میں ہی اب نیا ٹرینڈ چل رہا ہے، اب نیوز پیپر نہیں بلکہ ’ویوز پیپر‘ کی ضرورت ہے۔ ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا آج کا نیوز پیپر ہے، جب کہ ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ویوز یا خیالات کی جگہ نہیں ہے، اس لیے نیوز پیپرز کو اب ویوز پیپر بننا ہو گا۔‘
پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’فریڈم نیٹ ورک‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے جنگ اخبار کے اداریے بند ہونے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’کسی بھی اخبار کا اداریہ مختلف موضوعات پر عوام کی آگاہی کیساتھ مختلف معملات پر حکومت کے احتساب کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اقبال خٹک نے کہا کہ مجھے جنگ کے اداریے بند ہونے پر بہت پریشانی ہے۔‘ اقبال خٹک نے کہا کہ کسی بھی اخبار کا اداریہ اس کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ عوام کی آگاہی اور حکومتی احتساب کی ذمہ داری اخبار نے رضا کارانہ طور پر لی ہوتی ہے، اس لیے اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ یہ کام مکمل کرے۔
اقبال خٹک کے مطابق: ’پاکستان میں انسانی حقوق کے پیمانے بہت نیچے ہیں، اس کے علاوہ حکومتی احتساب اور عوام کی آواز بننے کے لیے اخبار کا اداریہ ہونا ضروری ہے۔ لہذا جنگ کا اداریہ بند ہونے مجھے افسوس ہوا ہے۔
روزنامہ جنگ کا ایڈیٹوریل مستقل بند ہو جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر لوگوں نے یوں تنقید کرنا شروع کر دی ہے، جیسے کوئی بہت ہی انوکھی بات ہو گئی ہو، لیکن تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت نے شاید ہی کبھی روزنامہ جنگ کا اداریہ پڑھا ہو۔ محمد حنیف نے کہا کہ ’ماضی میں آمرانہ ادوار کے دوران اخبارات کسی بڑے واقعے کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار اپنے اداریے میں کیا کرتے تھے لہذا اس کی ایک اہمیت تھی۔لیکن اب اخبارات کے اداریے سکول کے مضامین کی طرح گھسے پٹے انداز میں لکھے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی اخبار میں اداریہ ہو یا نہ ہو، اس سے قاری کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
