عمران کی رہائی کے حکم پر جسٹس بندیال تنقید کی زد میں کیوں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت پر رہائی کے حکم کو جہاں عمرانڈو انصاف کی فتح قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف لیگی حلقے عدالتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فراہم کئے گئے ریلیف کا عمران خان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اس لئے ان کی نہ تو ان کی فوری رہائی ممکن ہے اور نہ ہی اس ریلیف سے ان کی انتخابی نااہلی کے ففیصؒے پر کوئی فرق پڑے گا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف نے عمران خان کی سزا معطل ہونے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی اور چیف جسٹس کا ’گُڈ ٹو سی یو‘ اور ’وشنگ یو گڈ لک‘ کا پیغام اسلاآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتا ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔شہباز شریف نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے، نواز شریف کی سزا یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ جج لگایا گیا تھا، لاڈلے کو بچانے کے لیے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نظامِ عدل کا یہ کردار تاریخ کے سیاہ باب میں لکھا جائے گا، ایک طرف جھکے ترازو اور انصاف کو مجروح کرتا نظام عدل قابلِ قبول نہیں،گھڑی بیچ کھانے والے کے سامنے قانون بے بس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چور اور ریاستی دہشت گرد کی سہولت کاری ہوگی تو ملک میں عام آدمی کو انصاف کہاں سے ملے گا، 9 مئی ہو، جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ ہو، پولیس پر پٹرول بم کی برسات ہو، سب معاف۔
سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ نواز شریف کو ہر حال میں سزا دینے کے لیے سپریم کورٹ نے مانٹیرنگ جج مقرر کیا ان کو اپیل کے حق سے محروم رکھا، دوسری طرف لاڈلے کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ نے ماورائے آئین خود مانیٹرنگ کی جس مجرم کو چیف جسٹس’ گڈ ٹو سی یو’ کہیں اسے ماتحت عدالت کیسے سزا دے سکتی ہے، یا جیل میں رکھ سکتی ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی سزا اتنی جلدی معطل نہیں ہوئی، اگر ایسے ہی کرنا ہے تو سارے کرپٹ لوگوں کو جیل سے نکال دیں۔سابق وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اوئے زیبا جج میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ریاستی دہشت گرد، چور اور عوام کی مہنگائی کے مجرم کی ’اوئے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں‘ کی دھمکی میں آتے ہیں کہ نہیں ؟ یا ادھر بھی گڈ ٹو سی یو اور وشنگ یو گڈ لک ہوگا۔
عدالتی فیصلے بارے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ہنگامی بنیادوں پر ایک شخص کی آزادی کے حق کو سامنے رکھتے ہوئے جلدی میں فیصلہ کیا ہے جس کو سراہا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی سزا معطلی نا اہلی کی معطلی نہیں ہے۔ ان کی نااہلی دو طرح کی ہے۔ ایک نا اہلی سول ہے جو الیکشن کمیشن نے کی جبکہ دوسری اسی میں سے شاخ نکلی جو کرمنل ہے۔ اس وقت صرف ان کو جیل سے رہائی ملے گی۔ جب اپیل میں فیصلہ ہو گا تو اس وقت اگر ان کو بری کر دیا جاتا ہے تو اس وقت ان کی نا اہلی برقرار رہے گی۔‘
ماہر قانون عمر گیلانی نے بتایا کہ جب تک عمران خان کی مرکزی اپیل کی سماعت جاری ہے اور وہ حتمی طور پر باعزت بری نہیں ہو جاتے ان کی نا اہلی برقرار رہے گی۔انھوں نے کہا کہ کرمنل اور سول قانون میں فرق یہ ہے کہ سول میں آرڈر کو معطل کیا جائے تو صرف قید کی سزا معطل ہوتی ہے مجموعی سزا اور اس کے نتائج برقرار رہتے ہیں۔’اس کیس میں عدالت نے صرف قید کی سزا معطل کی ہے ان کی باقی سزا برقرار ہے۔ اس لیے عمران خان نااہل ہی رہیں گے۔‘
دوسری جانب ایڈووکیٹ شاہ خاورکا کہنا ہے کہ ’سزا معطلی کے باوجود عمران خان کا جیل سے باہر آنا بظاہر مشکل ہے کیونکہ ایف آئی اے نے اٹک جیل میں ان کی گرفتاری ڈال کر انھیں شامل تفتیش کر رکھا ہے۔‘شاہ خاور نے کہا کہ ’اگر توشہ خانہ کیس میں ان کی رہائی عمل میں آتی ہے تو اس کے باوجود وہ دوسرے مقدمات میں گرفتار رہیں گے۔‘ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا عمران خان اٹک جیل میں ہی قید رہیں گے یا انھیں دوسرے ٹرائلز کے دوران کسی اور جیل میں منتقل کیا جائے گا۔اس پر قانونی ماہر شاہ خاور نے بتایا کہ اس کا فیصلہ محکمہ داخلہ کرے گا کہ آیا عمران خان کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں ہی قید رکھا جائے گا یا کسی دوسری جیل منتقل کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ایک سزا یافتہ شخص کو کسی بھی جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ’کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب‘ قرار دیتے ہوئے اُنہیں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔کیس کا فیصلہ آنے بعد انہیں پولیس نے زمان پارک سے گرفتار کر لیا تھا اور اُن کو اٹک جیل میں سزا کاٹنے کے لیے منتقل کیا گیا۔عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ’کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب‘ قرار دیتے ہوئے اُنہیں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس پر 29 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا جبکہ خصوصی عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کو 30 اگست تک جیل میں ہی قید رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔دریں اثنا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کیس میں 30 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا تحریری
ایشیا کپ کے پہلے میچ کیلئےقومی ٹیم کے 11 رکنی اسکواڈ کا اعلان
آرڈر سپرنٹنڈینٹ اٹک جیل کو بھیج دیا۔
