پاکستانی غدار شکیل آفریدی امریکہ کا لاڈلا کیوں؟

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستان میں اُسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا کھوج لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے پر بعض حلقے غدار قرار دیتے ہیں۔ لیکن امریکہ میں انہیں ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے اور امریکہ بارہا پاکستانی حکام سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ شکیل آفریدی کو رہا کر کے امریکہ آنے کی اجازت دی جائے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تھا، لیکن اُنہیں شدت پسند گروپ کی معاونت کے الزام میں ایف سی آر قوانین کے تحت پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے 33 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیلیں کئی برس تک فاٹا ٹربیونل میں زیرِ التوا رہی تھیں، تاہم فاٹا انضمام کے بعد یہ اپیل پشاور ہائی کورٹ منتقل کر دی گئی تھی جسے اب دوبارہ فاٹا ٹربیونل بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم شکیل آفریدی کے وکلاءفاٹا ٹربیونل کی بحالی کے بعد اس کیس کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا سیکرٹریٹ کے قیام کی خبریں، فاٹا ٹربیونل کی دوبارہ بحالی، افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد قبائلی اضلاع میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے بعد یہ تاثر پروان چڑھ رہا ہے کہ شاید فاٹا انضمام کا فیصلہ واپس لینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُن کے موکل کو تین مقدمات میں دس، دس برس اور ایک مقدمے میں تین برس قید کی سزا سنائی گئی۔ اُن کے بقول زیادہ تر عدالتیں حتمی فیصلے میں تمام سزاؤں کو یکجا کر دیتی ہیں جنہیں ‘کنکرنٹ’ کہا جاتا ہے۔ لہذٰا وہ 10 برس قید کی سزا پوری کر چکے ہیں۔اُن کے بقول شکیل آفریدی کی تمام سزائیں بیک وقت شروع ہوئیں تو اس لحاظ سے وہ اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔قمر ندیم ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ اگر پشاور ہائی کورٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کو برقرار بھی رکھتی تو وہ پہلے ہی 10 سال قید پوری کر چکے ہیں۔اُن کے بقول ہم ہائی کورٹ سے یہی توقع کر رہے تھے لیکن ایک بار پھر اس کیس کو فاٹا ٹربیونل کے سپرد کر دیا گیا اب پتا نہیں آگے کیا ہو گا۔
خیال رہے کہ شکیل آفریدی کے عوض ماضی میں نواز شریف نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی شرط عائد کی تھی۔ لیکن اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما نے شکیل آفریدی کو ریمنڈ ڈیوس کی طرح دیگر ذرائع سے رہا کرنے کی تجویز دی تھی۔ جس پر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے شکیل آفریدی کے کیس پر امریکی دباؤ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شکیل آفریدی کو پشاور کی جیل سے ساہیوال کی سیکیورٹی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ شکیل آفریدی کے کیس میں حکومت کی دلچپسی کے بعد قوی امکان ہے کہ بہت جلد اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ ماضی میں شکیل آفریدی کے کیس میں اسے سزائے موت کے بجائے 33 سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ لیکن اب کیس دوبارہ سننے سے بہت جلد اس کا منطقی انجام ہونے والا ہے۔ ادھر صوبائی وزارت قانون اور داخلہ امور کے ذرائع نے بتایا کہ بہت جلد یہ کیسز چلائے جائیں گے تاکہ ان لوگوں کے فیصلے جلد از جلد ہوں۔ ذرائع نے بتایا کہ شکیل آفریدی اور دیگر ملزمان کو مزید سخت سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ شکیل آفریدی کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے 23 مئی 2011 کو اٹک ضلع کی حدود سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک برس کے بعد انہیں قبائلی علاقے خیبر کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں پیش کیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی معاونت کی ہے۔ اس جرم میں ان کو 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بظاہر ایک کالعدم شدت پسند تنظیم ’لشکر اسلام‘ سے منسلک جنگجوؤں کا علاج کرنے کے الزام
پاکستان انڈر 16 فٹبال ٹیم کو ساف چیمپئن شپ کیلئے این او سی جاری
میں سابقہ ایف سی آر قانون کے تحت گرفتار کرکے سزا دی گئی تھی۔
