کیا بجلی کے بلوں پر لگے ہوشرباٹیکسز سے چھٹکارا ممکن ہے؟

گزشتہ کئی روز سے مہنگی بجلی اور ہوشربا بلوں کے خلاف مسلسل احتجاج کرنے والے پاکستانی ابھی تک کسی ریلیف کے منتظر ہیں۔ ایسے میں مہنگائی کے ستائے پاکستانی ایک چھوٹا سا کام کر کے اپنے بلوں سے خاصی رقم کم کروا سکتے ہیں۔ صارفین کو شکوہ ہے کہ بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمت کے ساتھ ساتھ بلوں میں شامل تقریبا 40 فیصد تک کے ٹیکس، ڈیوٹی اور فیس بھی ان کی پریشانی میں اضافے کا باعث ہیں۔

مہنگی بجلی کے بڑھتے بلوں نے جہاں پاکستانی صارفین کو مختلف احتیاطیں اپنانے پر مجبور کیا وہیں ہر قیمت پر بل کی رقم کم کرنے کی کوششوں کو بھی ترجیح بنا دیا ہے۔کوئی بل کم رکھنے کی تجاویز شیئر کر رہا ہے تو کوئی متبادل ذرائع پر انحصار کی تاکید کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فنانس کی بہتر سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کا دعوی ہے کہ بجلی کے 25 ہزار روپے سے زائد مالیت کے بل پر 7.5 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ یہ رقم بل کی کل مالیت کو اچھا خاصا بڑھا دیتی ہے۔ ایسے میں اگر آپ فائلر ہیں تو محض چند منٹوں میں اپنے بل سے ہزاروں روپے کا انکم ٹیکس ختم کر سکتے ہیں۔

فائلر صارفین اپنے بل سے بھاری ٹیکس کم کرنے کے لیے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔ ویب سائٹ پر اپنی معلومات اپ ڈیٹ کرنے کے سیکشن میں جا کر اپنی رجسٹریشن چیک کریں۔مطلوبہ کالم میں اپنا شناختی کارڈ نمبر ڈالنے پر پی آئی ٹی سی کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ صارف کی تفصیل اپ ڈیٹڈ ہے یا نہیں۔اگر آپ کی تفصیلات اپ ڈیٹڈ ہیں تو آپ کو بل میں انکم ٹیکس لگ کر نہیں آئے گا۔ تاہم ایسا نہ ہو تو پھر پراپرٹی مالک یا پراپرٹی کےا ستعمال کنندہ کے طور پر اپنی تفصیلات وہاں درج کریں۔ایسا کرنے کی وجہ سے آپ کے بجلی کے بل میں انکم ٹیکس لگ کر نہیں آئے گا۔

یاد رہے کہ پاکستانی صارفین کے بجلی کے بلوں میں 9 مختلف اقسام کے ٹیکس، ڈیوٹی اور فیس عائد کی جاتی ہے۔ فائلر صارفین کے بل سے انکم ٹیکس منہا ہوجانے کے بعد بھی باقی 8 اضافی چارجز سابقہ معمول کے تحت ہی وصول کیے جائیں گے۔پاور ڈویژن کی آفیشل ویب سائٹ پر بلوں میں انکم ٹیکس لگانے کی شرح کچھ اور بیان کی گئی ہے تاہم سوشل ٹائم لائنز اور گروپس میں شیئر ہونے والے میسیجز میں دعوی کیا گیا ہے کہ 25 ہزار سے زائد بلز پر 7.5 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی صارفین مہینے بھر میں جو بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسے کلو واٹ آورز کی بنیاد پر شمار کیا جاتا اور پھر بجلی کی متعلقہ تقسیم کار کمپنی یعنی ڈسکو کے ٹیرف کے مطابق اس کی قیمت کا تعین ہوتا ہے۔ڈسکوز کی جانب سے ٹیرف ریٹ کا تعین ہر خرچ شدہ یونٹ کی قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ قیمت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹر اتھارٹی نیپرا کی طے کردہ ہوتی ہے۔ جب کہ ان نرخوں کو حکومت نوٹیفائی کرتی ہے۔

بجلی کے بل پر درج خرچ شدہ یونٹ اور اپنے میٹر پر موجود یونٹس دیکھ کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ بل درست ہے یا نہیں۔ اگر یونٹس میں فرق ہو تو اس کی شکایت اپنے سب ڈویژن میں کروائی جاتی ہے، اس کی تفصیل بل پر یا بل کی پشت پر درج ہوتی ہیں۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے کمپلینٹ سیل بھی قائم کر رکھے ہوتے ہیں وہاں بھی یہ شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔

عام مشاہدہ ہے کہ بجلی کے بل میں ڈیسکوز کے عملے کی جانب سے کی گئی غلطیاں، ریڈنگ نہ کرنا، غلط تاریخ پر کرنا جیسے مسائل شکایات کے باوجود بھی حل نہیں ہوتے بلکہ باقی رہتے ہیں اور کنزیومر کو اس غلطی کی قیمت ادا کرنی ہی پڑتی ہے۔پاکستان میں بجلی کے بلوں پر مختلف اقسام کے ٹیکسز، ڈیوٹی، فیس اور سرچارجز وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کی مجموعی

ہاکی فائیو ایشیا کپ،پاکستان نے جاپان کو شکست دیدی

مقدار 40 فیصد سے زائد بنتی ہے۔

Back to top button