سپریم کورٹ سے ریلیف کے باوجود جسٹس جہانگیری کی چھٹی یقینی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کو جعلی ڈگری کے الزام پر کام سے روکنے کا فیصلہ سپریم کورٹ سے معطل ہونے کو وکلا برادری کی جانب سے عمران دار ججز کے دھڑے کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے عارضی ریلیف سے جسٹس جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کا کیس ختم نہیں ہوا بلکہ کراچی یونیورسٹی کی جانب سے ڈگری کی منسوخی کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے جو بالآخر جسٹس جہانگیری کی مکمل چھٹی پر منتج ہو گا کیونکہ کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کمیٹی کی جانب سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی اور اس حوالے سے دائر درخواست کے ساتھ منسلک مضبوط دستاویزی ثبوتوں کی وجہ سے جسٹس طارق جہانگیری کی نااہلی یقینی دکھائی دیتی ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی امور نمٹانے سے روکنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کا حکم نامہ معطل کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس جہانگیری کو ریلیف ملنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت کسی جج کو کام سے روک سکتی ہے؟ آئینی معاملات پر نظر رکھنے والے سینئر قانون دان بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی جج کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک سکے۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جب ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ججز کو کام سے روکنے کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے۔بیرسٹر صلاح الدین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل بھی کسی بھی جج کو اس وقت کام کرنے سے روک سکتی ہے جب کونسل اس کے خلاف درخواست پر اپنا کام مکمل کرلے۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ کوئی جج کسی دوسرے جج کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کرسکتا۔ بیرسٹر صلاح الدین کے بقول اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو جسٹس جہانگیری کی جعلی ڈگری سے متعلق درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ جسٹس جہانگیری نے ان کی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور ایسا عمل مفادات کے ٹکراو کے زمرے میں آتا ہے۔
واضح رہے کہ ملکی عدالتی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب کسی جج کی تعلیمی سند پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے سابق جج صفدر شاہ کی انٹرمیڈیٹ کی ڈگری پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ ڈکٹیٹر ضیا الحق کے دور میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں سزا سنانے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ میں جسٹس صفدر شاہ بھی شامل تھے۔ تاہم وہ ان اقلیتی ججز میں سے ایک تھے جنھوں نے سابق وزیر اعظم کو قتل کے اس مقدمے میں بری کر دیا تھا۔ بعد ازاں جسٹس صفدر شاہ کی انٹرمیڈیٹ کی ڈگری کو لیکر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے انڈیا سے جو انٹر کا امتحان پاس کر کے جو ڈگری حاصل کی ہے وہ جعلی ہے۔ ڈگری پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد جسٹس صفدر شاہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر بیرون ملک چلے گئے تھے۔
یاد رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کی درخواست اعلیٰ عدلیہ میں متنازعہ درخواستیں دائر کرنے والے قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہے۔ میاں داؤد ایڈوکیٹ کے دعوے کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ایل ایل بی کی ڈگری ہی مشکوک ہے جس کی بنیاد پر وہ پہلے وکیل اور پھر جج بنے تھے۔ کراچی یونیورسٹی نے اسی بنیاد پر جسٹس جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کر دی تھی بعد ازاں جامعہ کراچی نے جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں قرار دیاتھا جسٹس جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کا فیصلہ یونیورسٹی قوانین اور ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ: جسٹس جہانگیری کی اپیل منظور، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
دوسری جانب اس حوالے سے میاں داؤد کا موقف ہے کہ جسٹس طارق کی وکیل بننے کی بنیادی قابلیت ایل ایل بی کی ڈگری ہی جعلی ہے جس کی بنیاد پر انہیں جج بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک غلط فیصلہ تھا جسے ٹھیک کرنا چاہیے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے مطابق انہوں نے یونیورسٹی آف کراچی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا جبکہ جج صاحب کی ٹیبولیشن شیٹ کے مطابق ان کے ایل ایل بی پارٹ ون کا انرولمنٹ نمبر 5988 امتیاز احمد نامی ایک اور شہری کا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایل ایل بی پارٹ ون کی مارک شیٹ پر ان کا نام طارق جہانگیری ولد محمد اکرم لکھا ہوا ہے جب کہ شناختی کارڈ کے مطابق ان کے والد کا اصل نام قاضی محمد اکرم ہے۔ میاں داؤد کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کی تعلیمی دستیاویزات بھی دو نمبر ہیں۔ اسلامیہ کالج کے پرنسپل نے تحریری طور پر تصدیق کی ہے کہ طارق محمود ولد محمد اکرم 1984 سے 1991 تک ان کے کالج کے طالب علم ہی نہیں تھے، جب کہ کنٹرولر امتحانات کے مطابق ایک انرولمنٹ نمبر دو افراد کوالاٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کی جانب سے اپنی بنیادی ڈگری منسوخ ہو جانے کے بعد جسٹس طارق جہانگیری کا جج کی کرسی پر برقرار رہنا ممکن نہیں اور ان کے دن پورے ہو گئے ہیں
یاد رہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔جسٹس طارق محمود جہانگیری پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں 28 دسمبر 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ انہیں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تب کے صدر عارف علوی نے جج مقرر کیا تھا۔ جسٹس جہانگیری کو تحریک انصاف کا حمایتی جج تصور کیا جاتا ہے وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر تب مقبول ہوئے جب انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔ واضح رہے کہ جسٹس جہانگیری ان 5 ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جسٹس ڈوگر کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کو چیلنج کیا تھا، وہ ان ججوں میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ سال سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدالتی معاملات میں مداخلت کی شکایت کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج بننے کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری اس تین رکنی بینچ کی سربراہی بھی کرر ہے تھے جس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیریان سے متعلق دائر درخواست کو ڈس مس کردیا تھا۔ جسٹس جہانگیری اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بنیں جب سنہ 2023 میں انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان مقدمات میں بھی بلینکٹ پروٹیکشن دیتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا جو اس وقت تک عمران خان کے خلاف درج بھی نہیں کیے گئے تھے۔
