لاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرمان کی سزائے موت برقرار

لاہور ہائی کورٹ نے ملک کے حساس ترین مقدمات میں شمار ہونے والے موٹروے ریپ کیس میں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم سنا دیا۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے تمام شواہد، گواہیوں اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کر دیں۔
خیال رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ 9 ستمبر 2020 کو پیش آیا تھا، جب موٹروے پر گاڑی خراب ہونے کے باعث پھنس جانے والی خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے ڈکیتی کے دوران زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا تھا اور خواتین کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے تھے۔
سماعت کے دوران مجرموں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کے دلائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی، لہٰذا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دونوں ملزمان کو بری کیا جائے۔تاہم پراسیکیوشن نے اپیلوں کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مجرموں کے خلاف سائنسی، فرانزک اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ نے قانون کے مطابق فیصلہ سنایا تھا۔
واضح رہے کہ 20 مارچ 2021 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عابد ملہی اور شفقت بگا کو ریپ، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی، جبکہ دیگر دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی گئی تھیں۔ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مجرموں کے وکیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا قانونی حق استعمال کریں گے۔
