چینی مداخلت کے باوجود پاکستان میں TTP کے حملے جاری

چینی سفارت کاری کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی طالبان حکومت کو یہ یقین دہانی ملنے کے باوجود کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی روک دے گی، زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا اور عسکریت پسندوں کی بدستور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ٹی ٹی پی واقعی اپنی پالیسی تبدیل کر چکی ہوتی تو اس کے اثرات حملوں میں نمایاں کمی کی صورت میں نظر آتے، لیکن اب تک ایسی کوئی واضح تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے دہشت گردی ترک کرنے کی یہ یقین دہانی افغان طالبان حکومت نے پاکستانی حکام تک چین کے دباؤ اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پہنچائی تھی۔ چین گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننی چاہیے جو خطے کے امن، اقتصادی راہداریوں اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، چین اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مختلف سفارتی رابطوں میں دہشت گردی کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا تھا اور انہی کوششوں کے نتیجے میں کابل حکومت نے اسلام آباد کو یقین دلایا تھا کہ ٹی ٹی پی کو پاکستان مخالف سرگرمیوں سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

تاہم پاکستانی پالیسی ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ ان یقین دہانیوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ بیانات نہیں بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں حقیقی اور مستقل کمی ہوگی، جو تاحال پوری طرح دیکھنے میں نہیں آئی۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر طالبان امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کو ٹی ٹی پی کو کھلی وارننگ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان کی قیادت کی جانب سے یہ پیغام سامنے آیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان کے اندر حملے روکنے کی وارننگ دی ہے، لیکن اسلام آباد اس پیغام کو کافی نہیں سمجھ رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ بیانات اور یقین دہانیوں سے زیادہ اہم عملی اقدامات اور زمینی نتائج ہوتے ہیں، جو ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔

ذرائع کے مطابق افغان طالبان پاکستان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کابل حکومت اسلام آباد کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ غیر رسمی سفارتی ذرائع سے پاکستان کو یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے ٹی ٹی پی قیادت کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے اندر حملے جاری رکھتی ہے تو وہ طالبان کی سیاسی، نظریاتی اور تنظیمی حمایت سے محروم ہو سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان قیادت نے ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر یہ ایک اہم پیش رفت محسوس ہوتی ہے کیونکہ ماضی میں افغان طالبان پر بارہا یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی اور سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس قسم کے پیغامات صرف اسی صورت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کے ساتھ قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات بھی موجود ہوں۔ سیاسی اور سیکیورٹی مبصرین کے مطابق اصل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت مسلسل اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔ تاہم مسلسل حملے اور سیکیورٹی خدشات ان دعوؤں کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی ٹی ٹی پی پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں تو پھر پاکستان میں حملوں کی تعداد میں واضح کمی آنی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف زبانی وارننگ یا سفارتی پیغامات اس وقت تک بے معنی رہیں گے جب تک ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت، تربیتی مراکز، مالی وسائل اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی جاتی۔ بعض علاقائی امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس وقت شدید بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ عالمی سطح پر سفارتی قبولیت حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان، چین اور وسط ایشیائی ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات بھی اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں طالبان کی جانب سے ایسے پیغامات کو ایک سفارتی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کے تحفظات کو وقتی طور پر کم کرنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خطرات پر واضح تشویش ظاہر کی تھی۔ اعلامیے میں کابل حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق چین کا کھل کر اس مسئلے پر بات کرنا طالبان حکومت کے لیے ایک اہم پیغام ہے کیونکہ بیجنگ افغانستان میں استحکام کو اپنی علاقائی اور اقتصادی حکمت عملی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اگر طالبان چین اور پاکستان دونوں کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی بین الاقوامی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری طرف دفاعی کہتے ہیں کہ پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان مکمل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی اور بداعتمادی کے باوجود دونوں فریق سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ارومچی میں ہونے والے مذاکرات اور حالیہ رابطے اسی کوشش کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساز قیادت اب صرف وعدوں اور یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حقیقی پیش رفت کا اندازہ صرف عملی نتائج سے لگایا جائے گا، نہ کہ بیانات سے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ہبت اللہ اخوندزادہ کی تحریک طالبان والوں کو وارننگ ایک حقیقی پالیسی تبدیلی کا آغاز ہے یا صرف بڑھتے ہوئے علاقائی دباؤ کو کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش۔ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں زمینی صورتحال خود واضح کر دے گی۔ اگر تو پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ افغان طالبان امیر نے واقعی پاکستان میں گڑ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وگرنہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر دوبارہ وسیع پیمانے پر بمباری کا امکان ہے۔

 

Back to top button