نواز شریف نے حکومت سے پارٹی کی علیحدگی کا فیصلہ کیوں کیا؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی چھٹی کروا کر ایک بار پھر پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہےایسی صورت حال میں مبصرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب ملک میں عام انتخابات ہو چکے ہیں اور مرکز اور پنجاب میں نون لیگ اقتدار سنبھال چکی ہے اس کے بعد نون لیگ کی جانب سے پارٹی قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ سامنے آنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟نواز شریف کے پارٹی قیادت سنبھالنے سے کیا ن لیگ کے بیانیے کو تقویت مل سکے گی؟ کیا ن لیگ میں اختلافات ہیں جس کا اظہار پارٹی قیادت کی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے؟
سینئر صحافی اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق ’مسلم لیگ ن کے بیانیے کی تقویت کا مسئلہ اتنا اہم نہیں جتنا پارٹی کی تنظیم سازی، رہنمائی اور اسے پھر سے متحرک کرنے کا ہے۔‘ جس کے لئے ’شہباز شریف کے وزیراعظم بننے اور مریم نواز کے وزیر اعلی بننے کے بعد نواز شریف کو پہلے کی طرح پارٹی سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جماعت کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس 11 مئی کو لاہور میں منعقد ہو گا۔‘عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کا انتظام مجبوری کے تحت کیا گیا تھا کیونکہ نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا تھا۔‘تاہم اب نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا بلکہ وہ یہ بات اس سے قبل کہہ بھی چکے تھے کہ پارٹی میں اس فیصلہ پر سوچ پائی جاتی ہے۔‘دوسری جانب سینیئر صحافی حامد میر نے مسلم لیگ ن کے اس فیصلہ کو سراہا ہے۔حامد میر کے مطابق ’یہ ایک بہترین اقدام ہے۔ نواز شریف کو چاہئیے کہ پارٹی کو جمہوری بنیادوں پر منظم کریں۔ ویسے بھی حکومت اور پارٹی کے عہدے علیحدہ ہونے چاہئیں۔‘
اس حوالے سے سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کا یہ اقدام پارٹی میں اسٹیبلشمنٹ کے حامی اور مخالفت میں دو گروپ بنانے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔‘عاصمہ شیرازی کے مطابق’نواز شریف کے پارٹی سنبھالنے سے ن لیگ کے بیانیے کو تقویت ملنے سے بڑی بحث ’ن لیگ کا کیا بیانیہ ہے‘ کی ہے۔عاصمہ شیرازی کے بقول ’ماضی میں جماعت کا نعرہ ’ووٹ کو عزت دو‘ رہا ہے۔ ان کی جماعت پر اس وقت یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ کیا ن لیگ واقعی سویلین سپریمیسی پر یقین رکھتی ہے؟ جبکہ ان کی حکومت ہائبرڈ پلس میں ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اگر نواز شریف پارٹی قیادت سنبھالتے ہیں تو پارٹی کو بیانیہ بنانے میں تقویت مل سکتی ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہوگا یا جمہوریت کی حمایت میں ہو گا۔‘
عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کو پارٹی قیادت ملنے کی وجوہات سے متعلق سوال پر کہا کہ ’جماعت میں اس وقت اندرونی اختلافات نہیں ہیں۔ ن لیگ نے ہمیشہ سے پارٹی میں اسٹیبلشمنٹ کے حامی اور مخالف دو گروپ رکھے ہیں۔ اس وقت بھی ایسے ہی دو گروپ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ مسلم لیگ ن کی پیش بندی نظر آ رہی ہے۔‘عاصمہ شیرازی کے مطابق: ’سابق وزیر اعظم کو پارٹی صدارت پر واپس لانا یہ طے شدہ بات ہی ہوگی کیونکہ انہیں اس عہدے سے ’اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ہٹایا گیا تھا تاکہ پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔’ن لیگ کا یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے تاکہ وہ وقت آنے پر دوسرے گروپ کے طور پر سامنے آ سکیں اور پارٹی کو متحرک کر سکیں۔ اس فیصلہ کی جڑیں اسی فیصلے میں ہیں جو سپریم کورٹ نے ان کے خلاف دیا تھا۔‘
