جنرل باجوہ اور بیرسٹر گوہر کے ہینڈ شیک پر تنقید کیوں؟

سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشمول بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور دیگر کی ایک شادی کی تقریب میں ملاقات اور مصافحے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پارٹی کارکنوں میں شدید ردعمل پیدا ہو گیا ہے۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دیے جانے والے سابق آرمی چیف سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی خوشگوار ملاقات پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے، تاہم پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے وضاحت کی ہے کہ جنرل باجوہ ان کی بھتیجی کی شادی میں لڑکے والوں کی طرف سے مدعو تھے اور یہ کوئی خفیہ ملاقات نہیں بلکہ سینکڑوں مہمانوں کی موجودگی میں ہونے والی اتفاقی ملاقات تھی۔
اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقدہ شادی کی یہ تقریب پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کی بھتیجی اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اسد عالم خان نیازی کے صاحبزادے کی شادی کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی، جس میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور سابق وفاقی وزیر آفتاب شیرپاؤ سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
شادی کی تقریب کے دوران بیرسٹر گوہر اور جنرل باجوہ کے درمیان ملاقات اور مصافحے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے اپنی ہی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ پارٹی کے بعض کارکنوں کا کہنا تھا کہ ایک طرف تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سیاسی جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف اس کے رہنما سابق آرمی چیف سے خوشگوار ملاقاتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس تنقید کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جبکہ عمران خان اور پارٹی کے متعدد رہنما مختلف مواقع پر سابق آرمی چیف پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے حامیوں کا ایک حلقہ آج بھی جنرل باجوہ کو عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا مرکزی کردار سمجھتا ہے۔
شدید تنقید کے بعد عاطف خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باجوہ کو ان کی طرف سے مدعو نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ لڑکے والوں کی جانب سے شادی میں شریک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق دلہے کے والد اسد عالم خان نیازی خود پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی، سیاسی شخصیت اور سابق فوجی افسر ہیں اور جنرل باجوہ سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں، اس لیے ان کی جانب سے مہمانوں کو مدعو کرنا ان کا اپنا اختیار تھا۔
عاطف خان نے بیرسٹر گوہر اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی جنرل باجوہ سے ملاقات کو خفیہ قرار دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں سینکڑوں افراد موجود تھے اور ایسی عوامی تقریب میں اتفاقاً ہونے والی ملاقات کو کسی سازش یا خفیہ رابطے کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکی والوں کو بھی پہلے سے معلوم نہیں تھا کہ لڑکے والوں کی جانب سے کون کون سے مہمان شریک ہوں گے۔
تاہم عاطف خان کی وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کارکنوں کی تنقید ختم نہیں ہوئی۔ بعض حامیوں نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کے خلاف مؤقف رکھنے والے اپنے رشتہ داروں سے بھی تعلقات محدود کر رکھے ہیں، اس لیے پارٹی رہنماؤں کو بھی جنرل باجوہ کی موجودگی میں ایسی تقریب سے واک آؤٹ کرنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب بعض صارفین نے اس ملاقات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر روایتی معاشرتی وضع داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی کی تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں اور شعبوں کی نمایاں شخصیات کا ایک جگہ جمع ہونا معمول کی بات ہے۔
یوں ایک خاندانی شادی کی تقریب میں ہونے والی بظاہر معمول کی ملاقات نے تحریک انصاف کے اندر سیاسی مؤقف اور قیادت کے طرزعمل کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف کارکن اپنی قیادت سے سابق آرمی چیف کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری جانب پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سماجی تقریبات میں اتفاقی ملاقاتوں کو سیاسی مفاہمت یا خفیہ رابطوں کا رنگ دینا درست نہیں۔
