امریکی الیکشن کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں خرابی کا امکان

 

 

 

امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو مڈ ٹرم الیکشن میں شکست اور ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان تو نہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے شخصی، کاروباری اور معاشی روابط کو نئی کانگریس کی سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسی صورت میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں خرابی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

 

امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات، پاکستان میں انسانی حقوق اور سیاسی جبر کی صورت حال اور دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاشی و دفاعی معاہدوں پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، تاہم پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت اور ایران جنگ کے دوران اس کے ثالثی کے باعث امریکی پالیسی میں مکمل تبدیلی کا امکان محدود ہے۔ امریکی تجزیہ کار اور اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمین کے مطابق کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کاروباری معاملات کی زیادہ چھان بین ہو گی، جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ اسلام آباد نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کاروباری اور معاشی تعاون سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کی قربت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان میں انسانی حقوق اور سیاسی جبر کے معاملات پر امریکی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش ہے، تاہم پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت اور ایران جنگ میں ثالثی کے کردار کے باعث کانگریس میں مخالفت کی شدت محدود رہنے کا امکان ہے۔

 

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے معدنی وسائل، سرمایہ کاری، کرپٹو کرنسی، تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار نے بھی دونوں ملکوں کے روابط کو نئی اہمیت دی ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار باقر سجاد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ایک نمایاں پہلو فوجی روابط، معدنی وسائل اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے قائم ہونے والی شخصی نوعیت کی شراکت داری ہے، جسے ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے پاس انتظامی اختیارات تو برقرار رہیں گے لیکن ان کے گرد سیاسی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔

 

تاہم اس سیاسی تبدیلی کا یہ مطلب نہیں کہ ڈیموکریٹس فوری طور پر امریکی خارجہ پالیسی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکیں گے۔ نئی کانگریس تین جنوری 2027 کو اپنا کام شروع کرے گی اور اس وقت تک موجودہ کانگریس ہی کام کرتی رہے گی۔ نئی کانگریس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہو گا، جسے کانگریس دو تہائی اکثریت سے مسترد کر سکتی ہے۔ البتہ بجٹ، قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے معاملات میں انہیں ڈیموکریٹس کی جانب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عمران PTI خیبر پختونخوا کی قیادت سے مایوس کیوں؟

امریکہ کی لامر یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات و میڈیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق امریکی انتخابات میں ووٹرز کی ترجیحات کا بنیادی تعلق داخلی مسائل، خصوصاً مہنگائی، معیشت اور ایران جنگ کے معاشی اثرات سے تھا۔ صدر ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں معیشت بہتر بنانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے اور جنگیں ختم کرنے کے وعدے کیے تھے، لیکن ایران جنگ کے نتیجے میں امریکی معیشت اور عام شہریوں کے اخراجات پر دباؤ بڑھا، جس کا سیاسی نقصان ریپبلکن پارٹی کو اٹھانا پڑا۔

 

ڈاکٹر اویس سلیم کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں کیونکہ واشنگٹن میں پاکستان کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ افغانستان کی صورت حال کسی بھی وقت دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتی ہے، جبکہ چین کے ساتھ امریکی تزویراتی مسابقت میں بھی پاکستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت برقرار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکی فوجی قیادت کے درمیان رابطے اور دفاعی تعاون کسی ایک صدر یا سیاسی جماعت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ وسیع تر امریکی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے جاری رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

 

البتہ پاکستان کے لیے تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے ماضی کی طرح امریکی مالی امداد یا غیر معمولی تجارتی رعایتوں کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، کیونکہ امریکہ کے اپنے معاشی مسائل اور داخلی ترجیحات بھی اس کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوں گی۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قائم ہونے والے کاروباری اور تجارتی روابط کی ڈیموکریٹک کانگریس میں جانچ پڑتال پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی حکومت کا دوسری حکومت کے ساتھ تجارت اور کاروبار کے شعبوں میں شراکت داری قائم کرنا سفارت کاری کا معمول کا حصہ ہے، کیونکہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ امریکی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ایسے روابط کو محض شخصی تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔

Back to top button