آزاد کشمیر میں دوبارہ کراس فائر اور خون خرابہ کیوں ہوا؟

آزاد کشمیر میں ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز تصادم کے نتیجے میں کئی افراد مارے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ راولا کوٹ میں تقریباً پانچ ماہ سے جاری دھرنا ختم کرانے کے لیے جمعرات کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نے بس ٹرمینل کی جانب جانے والے راستے کھلوانے کی کوشش کی تو کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے ساتھ مسلح جھڑپ شروع ہو گئی، بتایا جاتا ہے کہ اس دوران دونوں جانب سے کراس فائرنگ ہوئی جس میں ایکشن کمیٹی نے تین افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس تصادم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولا کوٹ کے بس ٹرمینل پر یہ دھرنا تقریباً پانچ ماہ سے جاری تھا۔ مظاہرین نے بس ٹرمینل اور اس کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، جس کے باعث راولپنڈی اور راولا کوٹ کے درمیان آمد و رفت سمیت شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی تھی۔ یہ احتجاج 6 جون 2026 کو شروع ہوا تھا اور جمعرات 5 نومبر کو اسے ختم کرانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔ یوں یہ دھرنا تقریباً 153 روز سے جاری تھا۔
آزاد کشمیر میں اس احتجاج کی بنیادی وجہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان عوامی مطالبات پر عمل درآمد کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع ہے۔ اس تحریک کا آغاز مئی 2023 میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے، بجلی کے بھاری بلوں اور ان پر عائد مختلف ٹیکسوں کے خلاف ہوا تھا، جبکہ بعد میں اس میں مہنگائی، بے روزگاری، سرکاری مراعات کے خاتمے، بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی اور سیاسی و انتظامی اصلاحات کے مطالبات بھی شامل ہو گئے۔ 2024 میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد حکومت کو بجلی اور آٹے کے نرخوں میں ریلیف دینا پڑا تھا۔
ستمبر اور اکتوبر 2025 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کا 38 نکاتی چارٹر پیش کرتے ہوئے پورے آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں 4 اکتوبر 2025 کو حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ تاہم ایکشن کمیٹی کا مؤقف رہا کہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس کے مطالبات میں بجلی کے نرخوں میں کمی، سستی گندم اور آٹے کی فراہمی، صحت و تعلیم کی سہولتوں میں بہتری، گرفتار کارکنوں کی رہائی، مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 38 میں سے بیشتر مطالبات پر عمل ہو چکا ہے، لیکن بعض سیاسی اور آئینی مطالبات پر اختلاف برقرار ہے۔
حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے جون 2026 میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا، جبکہ کمیٹی نے اس اقدام کو اپنے حقوق کی تحریک دبانے کی کوشش قرار دیا۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کے بعض کارکنوں نے سرکاری املاک اور عوامی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کیا۔ اس دوران راولا کوٹ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی کیمپ قائم رہے اور مذاکرات کے باوجود تنازع حل نہیں ہو سکا۔
جمعرات کی علی الصبح ہونے والی کارروائی کے حوالے سے پونچھ ڈویژن پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے دفتر سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تو مظاہرین میں شامل مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ پولیس کے مطابق اس تصادم میں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین میں شامل چند مسلح افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تو ہم بس ٹرمینل کا قبضہ چھڑوا لیا گیا۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔ کمیٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والوں کی میتوں کے ہمراہ راولا کوٹ کے ڈی چوک میں احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم سرکاری حکام نے جمعرات کی صبح ہونے والے آپریشن میں کسی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی زخمیوں کی حتمی تعداد سامنے آ سکی ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق بس ٹرمینل سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد شہر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق بس ٹرمینل کا علاقہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں ہے، تاہم ڈی چوک میں اب بھی کچھ مظاہرین موجود ہیں۔ پونچھ ڈویژن پولیس نے بھی جھڑپوں میں اپنے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
