چوہدری سالک کے الزامات پر ان کے بھائی شافع کیا کہتے ہیں؟

 

 

 

چوہدری شجاعت حسین کے بڑے صاحبزادے اور پنجاب کابینہ کے وزیر چوہدری شافع حسین کے قریبی ذرائع نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت پر عائد کردہ کرپشن کے الزامات پر کوئی ردعمل دیا ہے، جیسا کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری دعویٰ کر رہی ہیں۔ شافع حسین کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے نہ تو مریم نواز حکومت کا دفاع کیا ہے اور نہ ہی اپنے بھائی سالک حسین کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات کے ردعمل  میں کہا تھا کہ شافع حسین کے حالیہ انٹرویوز وزیراعلیٰ مریم نواز کے حق میں ہیں، اس لیے حکومت کا انہیں پنجاب کابینہ سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق شافع حسین نے اپنے چھوٹے بھائی سالک حسین کی جانب سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے، تاہم شافع حسین کے قریبی ذرائع اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) کا پنجاب کابینہ میں صرف ایک وزیر شافع حسین کی صورت میں شامل ہے، اس لیے ان کی وزارت برقرار رہنا پارٹی کی حکومتی اتحاد میں موجودگی کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تنازع تب شدت اختیار کرگیا جب وفاقی وزیر سالک حسین نے چند روز قبل وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کے جواب میں مریم نواز نے سالک حسین کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات واپس لے کر معافی مانگیں۔ سالک حسین نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا لیکن وہ اس کا بھر پور جواب دیں گے کیونکہ مریم نواز خود پنجاب میں کرپشن تسلیم کر چکی ہیں۔

 

دوسری جانب عظمیٰ بخاری نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا پھر معذرت کریں، کیونکہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہوتے ہوئے بغیر ثبوت سیاسی الزامات لگانا مناسب طرز عمل نہیں۔ عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ سالک حسین ایک وفاقی وزیر اور حکمران اتحاد کے رکن ہیں، اس لیے انہیں اپنی حکومتی حیثیت اور مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک وقت حکومت کے خلاف سیاسی الزام تراشی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر سالک حسین کے پاس پنجاب حکومت میں کرپشن کے حوالے سے کوئی شواہد موجود ہیں تو انہیں سامنے لانا چاہیے، بصورت دیگر اپنے الزامات پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سالک کے بھائی شافع بھی کرپشن الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

 

لیکن جب شافع حسین کی خاندانی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سالک حسین کے الزامات اور مریم نواز کے رد عمل کے بعد شافع نے کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہیں کیا لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ انہوں نے کرپشن الزامات کو جھٹلایا ہے۔

 

اس معاملے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی بھی میدان میں آگئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مریم نواز کے گجرات سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ان کے والد نے مریم نواز کے حوالے نہیں کیا تھا، بلکہ وہ فارم 47 کے ذریعے وزیراعلیٰ بنی ہیں۔ مونس الٰہی کے اس بیان کو چوہدری خاندان کے اندر پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک جانب چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین اور شافع حسین حکمران اتحاد کا حصہ ہیں تو دوسری جانب چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف کے حامی ہیں۔

عمران PTI خیبر پختونخوا کی قیادت سے مایوس کیوں؟

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس تنازع میں اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن پاکستانی معاشرے کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور اس لعنت کے خاتمے کی ذمہ داری صرف کسی ایک حکومت یا جماعت پر نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر پوری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) وفاقی اور پنجاب دونوں حکومتوں میں شامل ہے، اس لیے تمام اتحادی جماعتوں کو مل کر کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔

 

خواجہ آصف نے سالک حسین کے بیانات کے سیاسی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان الزامات کا مقصد مریم نواز کی حکومت کو نشانہ بنا کر پنجاب اور وفاق دونوں سطحوں پر اپنے لیے سیاسی جگہ بنانا اور مستقبل کی سیاست کو محفوظ کرنا ہے تو پھر اس بیان کے پیچھے موجود سیاسی حکمت عملی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کے بعض رہنما سالک کے الزامات کو محض کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے مستقبل کی سیاسی پوزیشننگ کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سالک حسین اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

 

چوہدری خاندان کے اندر موجودہ اختلافات کی جڑیں 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم میں پیوست ہیں۔ اس وقت چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی نے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ چوہدری شجاعت حسین کے بیٹوں سالک حسین اور شافع حسین نے شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی وابستگی برقرار رکھی۔

Back to top button