عمران PTI خیبر پختونخوا کی قیادت سے مایوس کیوں؟

عمران خان خیبرپختونخوا کی پارٹی قیادت سے مکمل طور پر مایوس ہو گئے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت معطل ہونے کے بعد سے بیشتر پارٹی رہنما انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہیں اور باہر آنے کو تیار نہیں، جبکہ ارکان اسمبلی نے اپنے موبائل فون بند کر رکھے ہیں اور پارٹی ورکرز کے ساتھ بھی رابطے ختم کر دیے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق عمران خان کو پہلے علی امین گنڈاپور اور بعد ازاں سہیل آفریدی سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کہ وہ صوبائی حکومت کی سیاسی طاقت کو ان کی رہائی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے استعمال کریں گے، لیکن ڈھائی سال گزرنے کے باوجود انکی توقعات پوری نہیں ہو سکیں
سونے پر سہاگہ یہ کہ جو لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیا گیا تھا وہ خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا اور رہی صحیح امیدیں بھی ختم ہو گئیں۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور اہم رہنماؤں نے خود کو انڈر گراؤنڈ کرلیا ہے اور میڈیا سے گفتگو کے لیے بھی کوئی تیار نہیں۔ بعض رہنما اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے پیغامات وصول کرتے ہیں، لیکن کچھ عرصے بعد ان کے واٹس ایپ نمبر بھی بند ہو جاتے ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رہنما نے اس خاموشی کی وجہ گرفتاری کا خوف، پارٹی کارکنوں کی ناراضی اور آئندہ انتخابات میں ٹکٹ سے محرومی کے خدشات کو قرار دیا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے سے رابطے کے لیے واٹس ایپ پر مختلف گروپ بنا رکھے ہیں، تاہم ان گروپوں میں بھی تمام رہنماؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔ بعض ارکان کو اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کے سیاسی حلقوں سے وابستگی کی بنیاد پر ان گروپوں سے الگ رکھا گیا ہے۔ آفریدی کے گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے علی امین گنڈاپور اور چارسدہ کے سیاسی گروپوں سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ انہیں کسی ایک دھڑے سے وابستہ نہ سمجھا جائے۔ اس صورت حال سے پارٹی کے اندر اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے متعدد ارکان اور سابق وزرا اپنے اختلافات ختم کرکے کسی بھی صورت صوبائی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں تاکہ مستقبل کے سیاسی بندوبست میں ان کی جگہ برقرار رہ سکے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور اور دیگر بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی کو دیہی علاقوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ارکان پہلے ہی عسکری حلقوں سے رابطے میں تھے اور اعلیٰ سطح پر ہونے والی ہدایات کے بعد انہوں نے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
بعض اطلاعات کے مطابق سابق وزرائے اعلیٰ پرویز خٹک اور محمود خان نے بھی کچھ ارکان اسمبلی کو محفوظ مقامات پر پناہ دے رکھی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق عمران خان نے 2024 کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرلی تھیں۔ پہلے علی امین گنڈاپور اور بعد ازاں سہیل آفریدی سے انہیں امید تھی کہ وہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان کی رہائی اور سیاسی مشکلات کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
تاہم علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کو پارٹی کارکنوں اور قیادت کے ایک حصے نے سنجیدہ سیاسی اقدام کے بجائے محض دکھاوا قرار دیا۔ بعد ازاں سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کے معاملے پر بھی وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دی جس کی عمران خان اور پارٹی کارکنوں کو توقع تھی۔ یوں تقریباً ڈھائی سال کے دوران صوبائی حکومت سے وابستہ امیدیں بتدریج کم ہوتی گئیں۔
عمران کی صحت بارے افواہیں کون پھیلا رہا ہے؟
پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما اور سابق صوبائی وزیر کے مطابق سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد عمران خان کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئیں، حالانکہ انہیں نئی قیادت سے بھی بڑی توقعات تھیں۔ اسی دوران صوبائی محکموں سے متعلق بدعنوانی کے مختلف اسکینڈلز سامنے آنے لگے، جس کے بعد پارٹی قیادت کے لیے صوبائی حکومت کا دفاع کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ ان رہنماؤں کے مطابق عمران خان عملی سیاست اور عوامی سطح پر احتجاجی سرگرمیوں کو اہمیت دیتے ہیں، لیکن خیبرپختونخوا میں ایسی نمایاں سیاسی سرگرمیاں دکھائی نہیں دے رہی تھیں جنہیں ان کی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاسکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک خیبرپختونخوا حکومت کی اہمیت محض انتظامی معاملات تک محدود نہیں تھی بلکہ عمران خان کے لیے یہ حکومت ایک اہم سیاسی اور مذاکراتی قوت بھی تھی۔ پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر صوبائی حکومت عوامی سطح پر مؤثر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتی اور وفاق کے ساتھ معاملات میں کوئی پیش رفت کرتی تو عمران خان کی رہائی اور سیاسی حکمت عملی میں اس کا کردار زیادہ نمایاں ہوسکتا تھا۔ تاہم حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات، بدعنوانی کے سکینڈلز اور احتجاجی سرگرمیوں کی کمی نے پارٹی کے اندر صوبائی حکومت کے کردار پر بحث کو مزید بڑھا دیا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بعض غیرفعال ارکان اسمبلی سہیل آفریدی کی حکومت بحال کروا کر ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ارکان اسمبلی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایسے سیاسی سمجھوتے بھی کرنا پڑ سکتے ہیں جو عمران خان کے بنیادی سیاسی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی بحالی کا معاملہ بھی پارٹی کے لیے ایک پیچیدہ سیاسی سوال بن گیا ہے۔ ایک طرف بعض ارکان اسمبلی دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو دوسری طرف اس مقصد کے لیے ممکنہ سیاسی سمجھوتے عمران خان کے بیانیے سے متصادم ہوسکتے ہیں۔

One Comment