انڈیا میں نصابی کتابوں سے اقبال کو نکالنے کا مطالبہ کیوں؟

 

 

 

بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کی سٹوڈنٹ ونگ نے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کو بھارتی یونیورسٹیوں کی نصابی کتب سے خارج کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ جموں یونیورسٹی کے بورڈ آف سٹڈیز نے بھی ایم اے پولیٹیکل سائنس کے نصاب سے علامہ اقبال، محمد علی جناح اور سر سید احمد خان کو نکالنے کی سفارش کی ہے۔

 

سینیئر صحافی حامد میر نے ان اقدامات کو اقبال مخالف نئی مہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر بھی علامہ اقبال کو تصورِ پاکستان سے لاتعلق ثابت کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، حالانکہ تاریخی دستاویزات اور خود اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال کی کتاب اس کی تردید کرتی ہے۔ حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ بھارت میں آر ایس ایس علامہ اقبال کو تصورِ پاکستان کا خالق سمجھتے ہوئے ان کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ دہلی یونیورسٹی پہلے ہی اقبال کو اپنے نصاب سے خارج کر چکی ہے، جبکہ آر ایس ایس کا سٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اب کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں قائم اقبال انسٹیٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کو بھی بند کرانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات محض تعلیمی نصاب میں تبدیلی نہیں بلکہ علامہ اقبال کی فکری و ادبی میراث کو بھارتی تعلیمی اداروں سے خارج کرنے کی کوشش ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ کنگز کالج لندن کی سینئر فیلو ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے 25 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر علامہ اقبال کا 1934ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے بنگالی استاد ایڈورڈ جان تھامسن کے نام لکھا گیا ایک پرانا خط شیئر کیا اور دعویٰ کیا کہ اقبال متحدہ ہندوستان کی فیڈریشن میں ایک مسلم صوبے کے حامی تھے اور ان کا تصورِ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک اور پوسٹ میں اپنے ناقدین کو مشورہ دیا کہ وہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال کی کتاب پڑھیں تاکہ ان کے والد کے تصورِ پاکستان کو سمجھ سکیں۔

 

حامد میر کے مطابق کنگز کالج لندن کے ایک استاد نے ان سے اس کتاب کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جسٹس جاوید اقبال کی کتاب ’’زندہ رود‘‘ کے متعلقہ صفحات فراہم کیے۔ کتاب کے صفحہ 450 سے 494 تک ’’مسلم ریاست کا تصور‘‘ کے عنوان سے تفصیلی بحث موجود ہے، جس میں جسٹس جاوید اقبال نے تاریخی شواہد کے ساتھ ایڈورڈ جان تھامسن کے مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ علامہ اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام تک ایک اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔ لندن کے استاد نے ان صفحات کا ترجمہ کرنے کے بعد ان میں دیے گئے حوالہ جات کی بھی تصدیق کی۔

 

حامد میر نے وضاحت کی کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں خطبۂ الہٰ آباد آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے دیا تھا اور اس میں پیش کیا گیا مؤقف جماعت کی اس وقت کی پالیسی کا عکاس تھا۔ ایڈورڈ جان تھامسن کے نام خط میں اقبال نے دراصل چوہدری رحمت علی کی پاکستان سکیم سے لاتعلقی ظاہر کی تھی کیونکہ مسلم لیگ نے اس وقت تک اس سکیم کو اپنی باضابطہ پالیسی نہیں بنایا تھا، تاہم ذاتی طور پر اقبال ایک علیحدہ مسلم ریاست کے حامی تھے۔ انہوں نے 11 جنوری 1931ء کو سید نذیر نیازی کے نام خط میں اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا تھا، جس میں ہندو اقلیت کے حقوق کے تحفظ کی بات بھی کی گئی تھی۔

 

ان کے مطابق جب کانگریس نے متحدہ ہندوستان کی فیڈریشن میں مسلم صوبوں کے قیام کی تجویز مسترد کر دی تو علامہ اقبال اور جناح دونوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ شروع کر دیا۔ 28 مئی 1937ء کو جناح کے نام خط میں اقبال نے برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے قیام کے مطالبے کو وقت کی ضرورت قرار دیا، جبکہ 21 جون 1937ء کے خط میں مسلم صوبوں کی علیحدہ فیڈریشن کا تصور بھی پیش کیا۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ ان تاریخی خطوط کو نظرانداز کرکے اقبال کو تصورِ پاکستان سے لاتعلق ثابت کرنا درست تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔ حامد میر نے جسٹس جاوید اقبال کی خودنوشت ’’اپنا گریباں چاک‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے اس مؤقف کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں بلکہ اس کی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے لکھا کہ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا، لیکن آج سیاست اور جمہوریت کو مذاق بنا دیا گیا ہے اور نئی نسل کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے تصور کے بارے میں الجھن میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ حامد میر کے بقول جناح نے اقبال کی وفات کے بعد ان کے نام لکھے گئے خطوط کو کتابی شکل میں خود شائع کرایا تھا تاکہ دونوں رہنماؤں کے فکری تعلق کو محفوظ رکھا جا سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی فکر صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ان کے نام سے ادارے اور تعلیمی مراکز قائم ہیں۔ کابل یونیورسٹی میں علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات اور فارسی، ایران کے شہر مشہد میں اقبال لاہوری انسٹیٹیوٹ آف ہائر اسٹڈیز اور ترکیہ میں اقبال کی ادبی و فکری خدمات سے وابستہ روایت اس بات کی عکاس ہے کہ ان کے افکار کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ ترکیہ کے قومی ترانے کے خالق محمد عاکف ارسوئے نے بھی اقبال کی کتاب ’’پیامِ مشرق‘‘ کا فارسی سے ترکی زبان میں ترجمہ کیا تھا، جبکہ قونیہ میں مولانا روم کے مزار کے احاطے میں اقبال کی ایک علامتی قبر بھی موجود ہے۔

 

حامد میر نے کہا کہ علامہ اقبال کی فکر جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت، مسلم دنیا کے اتحاد، فرقہ واریت کے خاتمے اور سیاسی و معاشی استحصال کے خلاف جدوجہد کا پیغام دیتی ہے، اسی لیے ان کے افکار مختلف حلقوں کے لیے ناپسندیدہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ علامہ اقبال کے خلاف نئی مہم کا مقصد ان کے افکار اور تصورِ پاکستان کے درمیان تعلق کمزور کرنا ہے، تاہم اقبال کے مخالفین ختم ہو سکتے ہیں لیکن ان کی فکر ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Back to top button