پاکستان اور تحریک طالبان کے مذاکرات اب کیوں ناکام ہوئے؟


پاکستانی حکام کی جانب سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ واپس لینے سے انکار کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات ایک مرتبہ پھر ناکامی کا شکار ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاک-افغان سرحد سے فوج کی واپسی اور فاٹا کا انضمام ختم کرنے کی شرط پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مزید مذاکرات اب ممکن نہیں کیونکہ یہ مطالبات آئین کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسسے بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ پاکستانی پارلیمنٹ نے کیا ہے اور اسے واپس لینے کا اختیار بھی صرف پارلیمنٹ کے پاس ہی ہے۔ ‘سما ٹی وی’ کے پروگرام ‘ندیم ملک لائیو’ میں میزبان کے سوالوں کے جواب دیتےہوئے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں ان کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں لیکن جو ایسا کرنے کو تیار نہیں ان کے ساتھ کوئی مذاکرات بھی نہیں ہو سکتے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پناہ لینے والے ٹی ٹی پی کے پاکستانی جنگجووں کی تعداد 4 ہزار سے 5 ہزار ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور سانحے سے منسلک طالبان عناصر کو معافی دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا جائے گا کہ دوسری جانب سے کس طرح کے لوگ مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں، اگر افغانستان کی سیاسی حکومت کے نمائندے موجود ہوتے ہیں تو پھر ہماری طرف سے بھی سیاست دان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ناکام ہونے والے پاکستان اور طالبان کے مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی قیادت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کر رہے تھے۔ یہ مذاکرات کابل میں افغان حکومت کے توسط سے ہو رہے تھے اور طالبان کی جانب سے فائربندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ تاہم فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو واپس لینے کا مطالبہ ان مذاکرات کے ٹوٹنے کا باعث بن گیا۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان ہتھیار ڈالنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، دوسری صورت میں ہم لڑائی سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘عسکری قیادت نے حکو۔ت کو یقین دلایا ہے کہ ہمارے پاس ایسے مسائل کا مؤثر حل نکالنے کی صلاحیت اور قوت ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘نہ فوج قبائلی علاقوں سے واپس بلانے پر بات ہوگی، نہ آئین پاکستان سے ہٹ کر کوئی بات ہوگی، نہ فاٹا کے انضمام کو واپس قبائلی علاقے کی حیثیت دینے پر بات ہوگی کیونکہ یہ آئین کے خلاف ہے، لیے کوئی بات نہیں ہو گی’۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے 24 مئی 2018 کو آئینی ترمیم منظور کی تھی، جس کے تحت وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، ٹی ٹی پی کے پیچھے چند طاقتیں ہیں جو ملک میں امن نہیں چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے لے کر آصف زرداری، جعمیت علمائے اسلام سمیت عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ تک سب کا اتفاق رائے تھا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہونے چاہیئں۔ لیکن طالبان نے مذاکرات کرنے کے پاکستانی فیصلے کو ہماری کمزوری سمجھا کر ایسے مطالبات پیش کر دیے جنہیں تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button