گندم کی کٹائی کے بعد کاشتکار سڑکوں پر کیوں آگئے؟

ملک کے زیادہ تر حصوں میں گندم کی کٹائی کا عمل مکمل ہو چکا ہے، گندم کٹائی کے بعد ،منڈیوں تک پہنچنا شروع ہوگئی ہے لیکن کسان حکومت کے متعین کعدہ نرخوں سے بھی کم ریٹ پر گندم فروخت کرنے پر مجبور ہے، سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی فی من قیمت 3900 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن منڈیوں میں گندم کا 3400 سے 3600 روپے میں خریدی جا رہی ہے۔ملک میں گندم کی صورتِ حال اور کسانوں کی پریشانی کا ذکر اب قانون ساز ایوانوں میں بھی ہو رہا ہے۔ کسان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل پر توجہ نہ دی تو وہ آئندہ سال گندم کی کاشت کم کردیں گے، واضح رہے کہ پاکستان میں صوبۂ سندھ میں گندم کی امدادی قیمت چار ہزار روپے فی من جبکہ پنجاب میں 3900 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، کسان رہنماؤں اور عام کاشت کاروں کی رائے ہے کہ حکومت نے کسانوں کو مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ان کے بقول، حکومت کی پالیسیوں کا کسان کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔پنجاب کے ضلع پاکپتن کے زمیندار راؤ حامد علی خان نے ’’وائس آف امریکہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اُن کے ضلع میں حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری شروع ہوئی ہے نہ ہی اُس کا کوئی شیڈول سامنے آیا ہے۔ اس وقت ملک کی منڈیوں میں صرف ذخیرہ اندوز موجود ہیں جو کسان کی چھ ماہ کی فصل کی محنت کی قیمت 3400 سے 3600 روپے فی من کے حساب سے دے رہے ہیں اور اُنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔زمیندار راؤ حامد علی خان کہتے ہیں کہ بوائی کے وقت گندم کے نرخ 5000 سے 5500 سو روپے فی من تک تھے۔ اس کی کاشت پر آنے والی لاگت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے جبکہ کسان کو اِس کی سرکاری قیمت 3900 سو روپے فی من بھی نہیں مل رہی۔ ان کے بقول جب گندم کی فصل بوئی تھی تو اُس وقت ڈی اے پی کھاد کی فی بوری کی قیمت 13 ہزار روپے اور یوریا کھاد کی قیمت کم از کم پانچ ہزار روپے تھی، گندم کی فصل کو چار پانی لگائے جاتے ہیں اور ایک پانی کا فی ایکٹر خرچہ چار سے پانچ ہزار روپے ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ زمین کی تیاری پر 15 سے 20 ہزار روپے فی ایکڑ اخراجات آتے ہیں۔کاشت کار زاہد نذیر نے الزام لگایا کہ اُن کے ضلع میں محکمہ خوراک اور محکمۂ پاسکو کی ملی بھگت سے کچھ لوگ پاسکو سے گندم کی خالی بوری پانچ روپے میں خریدتے ہیں، یہ لوگ منڈی سے 3200 روپے فی من کے حساب سے گندم خرید کر اسی بوری کو پاسکو کو 3900 روپے میں فروخت کر دیتے ہیں۔زاہد نذیر کے مطابق حکومت فی ایکڑ کے عوض کسان کو چھ بوریاں باردانہ دے گی جس کا مطلب ہے کہ اس میں لگ بھگ 15 من گندم آئے گی لیکن ان کے بقول گندم کی فی ایکڑ پیداوار اوسطاً 55 من آ رہی ہے۔ کسان نے باقی 40 من گندم بھی تو فروخت کرنی ہے۔’’وائس آف امریکہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف محکمہ خوراک پنجاب کے پاس 23 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے جس کی وجہ سے نئی خریداری میں تاخیر کی جا رہی ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی آمد کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب زیادہ گندم کاشت اور امپورٹ ہو گئی ہے، اب حکومت کو ہر چیز کرنا پڑے گی جس سے کسانوں کو ریلف مل سکے۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی میں جمعرات کو اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ نگراں حکومت نے غلط وقت پر زیادہ گندم درآمد کی جس کے باعث حکومت کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ دوسری جانب کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر سردار ظفر حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کا مالی استحصال نہ کرے، اُنہیں محنت کا معاوضہ ملنا چاہئے۔
