کیا KPKسے 4ماہ میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا خیبر پختونخوا میں 3 سے 4 ماہ کے اندر دہشت گردی ختم کرنے سے متعلق رانا ثنا اللہ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض علاقے کلیئر کرانا کافی نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ شدت پسند دوبارہ وہاں واپس نہ آسکیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا افغانستان سے بھی تعلق ہے، اس لیے اتنی مختصر مدت میں اس کے مکمل خاتمے کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ممکن ہے حکومت کا مقصد خیبر پختونخوا کے ان علاقوں کو 3 سے 4 ماہ میں کلیئر کرانا ہو جہاں دہشت گردوں اور طالبان کی موجودگی اور اثر و رسوخ کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فوجی آپریشنز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2009 اور 2010 میں سوات آپریشن کے بعد بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ بعد میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے انہیں ان علاقوں سے نکالا گیا اور ان میں سے کئی افغانستان چلے گئے۔

نجم سیٹھی نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں کو کلیئر کروا بھی لیا جائے تو کیا ایسا مستقل انتظام کیا جائے گا جس سے دہشت گرد دوبارہ وہاں قدم نہ جما سکیں؟ ان کے مطابق کچھ شدت پسند مارے جا سکتے ہیں اور کچھ فرار ہو سکتے ہیں، لیکن اصل چیلنج ان کی واپسی روکنا اور علاقے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت مقررہ مدت میں دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے نتائج سامنے آنے چاہییں، تاہم اس مقصد کے لیے مدت اور طریقۂ کار سے متعلق مزید وضاحت ضروری ہے۔

رانا ثنا اللہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ تاثر دینا کہ اگر وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے اور ایسا رہنما سامنے لائے جو حکومتی معاملات میں ساتھ چل سکے تو اسمبلی اور صوبائی حکومت بحال کر دی جائے گی، ان کے خیال میں پارٹی کو سبز باغ دکھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس امکان پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا پی ٹی آئی ایسی پیشکش قبول کرے گی، کیونکہ جماعت کے اندر مختلف معاملات پر اختلافات موجود ہیں اور اس کی قیادت کے لیے کسی ایک مؤقف پر متفق ہونا آسان نہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی اور محمود خان اچکزئی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے سے متعلق باتیں بھی ہو رہی ہیں، لیکن پارٹی کے اندر کوئی رہنما بانی پی ٹی آئی کے فیصلوں کے خلاف کھل کر سامنے آنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جماعت میں تقسیم اور اختلافات کی اطلاعات موجود ہیں، تاہم عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ عہدیداروں کو تبدیل کرنے کا اختیار کسی دوسرے رہنما کے پاس نہیں اور پارٹی کے اندر ان کے فیصلوں کو چیلنج کرنا آسان نہیں۔

Back to top button