KPKکے 12 اضلاع مکمل طور پر وفاق کے قبضے میں کیسے آئے؟

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کا انتظامی، مالی اور سیکیورٹی نظام صوبائی حکومت کے معمول کے دائرہ اختیار سے نکال کر براہِ راست وفاق کے ماتحت کرنے کے فیصلے نے صوبائی خودمختاری، حکومتی اختیارات اور انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ حکمنامے کے تحت پشاور میں 110 کمروں پر مشتمل الگ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ان اضلاع کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا۔ اس نئے انتظام کے تحت ایڈمنسٹریٹر کو صوبائی کابینہ جیسے مالی، انتظامی اور سیکیورٹی اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ وہ صوبائی حکومت کے بجائے براہِ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہوگا۔ اس مقصد کے لیے الگ پولیس نظام اور 48 رکنی کونسل کے قیام کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس سے خیبرپختونخوا کے ان اضلاع میں حکومتی معاملات چلانے کا ایک نیا وفاقی انتظامی ماڈل سامنے آئے گا۔
وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کو جاری کردہ دوسرے حکمنامے کے مطابق ان اضلاع کے لیے پشاور میں صوبائی سول سیکریٹریٹ کی طرز پر الگ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوں گے، جنہیں سرکاری افسران اور ملازمین کے تبادلوں، تعیناتیوں، ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور انتظامی فیصلوں سمیت صوبائی کابینہ جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔ وہ ڈپٹی کمشنرز، اساتذہ، کلریکل اسٹاف اور پولیس اہلکاروں تک کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے فیصلے کرسکیں گے اور تمام اہم معاملات میں براہِ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہوں گے۔
حکمنامے میں ان اضلاع پر آئین کے باب سوم، آرٹیکل 175 اور خیبرپختونخوا حکومت کے قواعدِ کار 1985 کے اطلاق نہ ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت ان علاقوں کو صوبائی حکومت کے معمول کے انتظامی ڈھانچے سے الگ کرکے وفاقی نظام کے تحت چلایا جائے گا۔ اس شق کے آئینی اثرات اور صوبائی اختیارات پر اس کے نتائج اہم قانونی سوالات پیدا کرتے ہیں۔
نئے انتظامی نظام کے لیے پشاور میں سابق فاٹا سیکریٹریٹ کی عمارت میں 110 کمروں پر مشتمل دفتر قائم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وہاں موجود لائیو اسٹاک، صحت، اطلاعات اور معدنیات کے محکموں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے علاوہ پانچ سیکریٹریز تعینات ہوں گے، جن میں سے ہر ایک 4 سے 6 محکموں کی نگرانی کرے گا۔ سیکریٹریٹ میں اطلاعات، سیکیورٹی اور قانونی امور کے مشیروں کے دفاتر بھی قائم کیے جائیں گے۔
وفاقی حکمنامے کے تحت باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں کے لیے 48 رکنی کونسل تشکیل دی جائے گی۔ اس کی منظوری وفاقی حکومت دے گی جبکہ نشستیں اضلاع کی آبادی کے تناسب سے مختص ہوں گی۔ کونسل کے ارکان متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے رابطے میں رہتے ہوئے انتظامی، مالی اور سیکیورٹی معاملات پر سفارشات پیش کریں گے، تاہم حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے۔
ان اضلاع میں سیکیورٹی کے لیے الگ نظام بھی قائم کیا جائے گا، جس کے تحت تعینات ہونے والا چیف پولیس افسر ایڈمنسٹریٹر کو جواب دہ ہوگا۔ اس طرح سول انتظامیہ، پولیس اور ترقیاتی امور ایک مرکزی انتظامی ڈھانچے کے تحت چلائے جائیں گے۔
مجموعی طور پر اس فیصلے کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں اختیارات کی تقسیم، صوبائی حکومت کے کردار اور مقامی نمائندگی کی نوعیت تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ نئے نظام کی عملی کامیابی کا انحصار اس کے آئینی جواز، انتظامی کارکردگی، سیکیورٹی صورت حال اور مقامی آبادی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔
