کیا واقعی ایم کیو ایم کی قیادت میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

ایم کیو ایم پاکستان میں اندرونی اختلافات، دھڑے بندی اور قیادت کے فیصلوں پر تحفظات کے درمیان سابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت سینیئر رہنماؤں کی دوبارہ سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں میں شرکت نے پارٹی کے اندر طاقت کے توازن اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک عرصے سے تنظیمی معاملات میں سینیئر رہنماؤں کے کردار، وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد اور مرکزی قیادت کے فیصلوں پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم حالیہ اجلاسوں، پریس کانفرنسوں اور عوامی سرگرمیوں میں ان رہنماؤں کی موجودگی کو پارٹی میں رابطوں کی بحالی اور ممکنہ نئی صف بندی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ قربتیں محض تنظیمی یکجہتی کی کوشش ہیں یا ان کے ذریعے پارٹی کے اندر فیصلوں کے طریقہ کار اور سیاسی ترجیحات پر نظرثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی حسان صابر کے مطابق وسیم اختر اور دیگر سینیئر رہنما پہلے بھی پارٹی کا حصہ تھے، اور ان کی دوبارہ فعال شرکت ماضی کی تنظیمی و سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش ہے۔ پارٹی کے ایک ذریعے کے مطابق انتخابی اور بلدیاتی چیلنجز کے پیش نظر قیادت کو احساس ہوا ہے کہ دیرینہ کارکنوں اور سینیئر رہنماؤں کو نظرانداز کرنے سے تنظیمی اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں، اسی لیے غیر متحرک اور ناراض ارکان کو دوبارہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کی قیادت نے کراچی کے حقوق اور سندھ میں انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق اپنے مؤقف کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک اس حکمت عملی کا ایک مقصد شہری مسائل کو سیاسی بحث کا مرکز بنانا اور کراچی میں پارٹی کی تنظیمی موجودگی کو مستحکم کرنا ہے، تاہم اس بیانیے کے عملی نتائج کا انحصار پارٹی کی اندرونی یکجہتی اور عوامی سطح پر اس کی سرگرمیوں پر ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وسیم اختر اور دیگر رہنماؤں کے درمیان حالیہ قربتیں مستقل اتحاد میں تبدیل ہوں گی یا نہیں، اس بارے میں فی الحال حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد، گورنر سندھ سے متعلق فیصلوں اور مرکزی قیادت کی جانب سے مشاورت کے بغیر اہم معاملات طے کرنے پر بعض سینیئر رہنماؤں کو تحفظات ہیں۔ فاروق سمیع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے اپنے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث رابطہ کمیٹی میں اختلافات کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد تنظیمی مسائل کے حل کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق وسیم اختر سمیت بعض رہنما ماضی میں وفاقی حکومت کے ساتھ اتحاد اور حکومتی شراکت داری پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی دوبارہ سرگرمیوں کے بعد پارٹی کے اندر اس اتحاد پر نظرثانی کے مطالبات سامنے آنے کا امکان زیر بحث آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم یہ پیغام بھی دینا چاہتی ہے کہ کراچی کے مسائل اور تنظیمی فیصلوں میں پارٹی کے مؤقف کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ تاہم سینیئر رہنماؤں کی حالیہ سرگرمیوں کو وفاقی حکومت سے متعلق کسی حتمی فیصلے یا قیادت میں تبدیلی کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مجموعی طور پر وسیم اختر اور دیگر سینیئر رہنماؤں کی دوبارہ فعال شرکت ایم کیو ایم پاکستان کے اندر تنظیمی رابطوں، قیادت کے کردار اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق جاری بحث کو نمایاں کرتی ہے۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ آیا یہ سرگرمیاں محض اختلافات کم کرنے تک محدود رہتی ہیں یا پارٹی کے اندر مشاورت، انٹرا پارٹی انتخابات، وفاقی حکومت سے اتحاد اور کراچی کے سیاسی مطالبات کے حوالے سے بھی کوئی واضح تبدیلی سامنے آتی ہے۔
