کیا پی ٹی آئی کے اندر مائنس عمران خان ممکن ہے؟

اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں ناکامی اور خیبر پختونخوا میں حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف اندرونی اختلافات اور سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما ایک دوسرے کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ لانگ مارچ کی ناکامی کا ملبہ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کیسے ختم کرے گی، مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت اپنے بنیادی مطالبات کو کس طرح آگے بڑھائے گی۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ لانگ مارچ ہے، جس کے فیصلے اور حکمت عملی پر خود پارٹی کے اندر اختلاف رائے موجود تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس مارچ میں سہیل آفریدی کا اہم کردار تھا اور وہ بانی پی ٹی آئی کے سامنے اپنی سیاسی وفاداری ثابت کرنا چاہتے تھے، تاہم پارٹی میں گروپ بندیوں اور اختلافات نے احتجاجی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی آج بھی ایک بڑا ووٹ بینک رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا سیاسی کردار نمایاں طور پر سامنے نہیں آ رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی ناکامی اور خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کو دوبارہ سیاسی طور پر متحرک ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں پارٹی کو گزشتہ 3 سال کی سخت گیر پالیسی کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی حکمت عملی میں موجود خامیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ احتجاجی سیاست اور ریاست کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے بجائے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق حکومت اپنی سیاسی بقا کے لیے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کو اپنے مفاد میں سمجھ سکتی ہے، لیکن ملک میں سیاسی استحکام کے لیے محاذ آرائی کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے اور ریاست کے ساتھ مسلسل تصادم کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں تصادم کی پالیسی پی ٹی آئی کے سیاسی مفادات کے لیے بھی موزوں نہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سیاسی قوتوں کے کردار کو محدود کرنے یا ان پر اثرانداز ہونے کی کوششیں ملک میں تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔ سلمان غنی کے مطابق موجودہ سیاسی عدم استحکام کا نقصان جمہوریت اور سیاست دونوں کو پہنچ رہا ہے، جبکہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی تحفظ اور دہشت گردی جیسے بڑے مسائل سے نمٹنا بھی مشکل ہوگا۔ تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اسے بات چیت کا موقع قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پی ٹی آئی سے بانی چیئرمین کو الگ کرکے جماعت کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بانی پی ٹی آئی ہی جماعت کی سیاسی شناخت کا بنیادی مرکز ہیں، اس لیے مائنس ون کا فارمولا قابل عمل نہیں۔
