پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی

تحریر:سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نہیں نہیں ۔ ایسا ہر گز نہیں کہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے ۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کی سہولت کار ہے ۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں کبھی پی ٹی آئی نے حصہ نہیں لیا اور پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی کوئی براہ راست سپورٹ فراہم نہیں کررہی ۔ بات فقط اتنی ہے کہ دونوں کے مابین ایک دوسرے کیلئے ایک گڈول ہے۔ اس میں بھی فرق یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کا گڈول پی ٹی آئی کے اقدامات کی وجہ سے ہے جبکہ پی ٹی آئی کا گڈول بادل ناخواستہ اور خوف کی وجہ سے ہے ۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ٹی ٹی پی کو سب سے زیادہ نقصان امریکی ڈرونز نے پہنچایا ۔ ٹی ٹی پی کا کوئی لیڈر کسی فوجی آپریشن میں نہیں مارا گیا اور جو بھی مارا گیا امریکی ڈرون حملے میں ہی مارا گیا۔ مثلاً تحریک کے بانی مولوی نیک محمد (اگرچہ اس وقت ٹی ٹی پی نہیں بنی تھی لیکن قبائلی علاقوں میں ان سرگرمیوں کی بنیاد انہوں نے ڈالی ) کو امریکیوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مارا اور یہ اس خطے میں پہلا ڈرون حملہ تھا۔ان کے بعد بیت اللہ محسود بھی ڈرون کا نشانہ بنے ۔ پھر ان کے جانشین حکیم اللہ محسود کو بھی ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جبکہ مولوی فضل اللہ کو بھی افغانستان میں امریکیوں نے ڈرون حملے کے ذریعے مار دیا۔ القاعدہ کے درجنوں لیڈرز جو ڈرون حملوں میں مارے گئے ، اس کے علاوہ تھے ۔ ڈرون حملوں سے ٹی ٹی پی کو بہت زیادہ تکلیف یوں بھی تھی کہ ان کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت چونکہ محدود ہوگئی تھی چنانچہ وہ کہیں بیٹھ کر شوریٰ کا اجلاس بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یوں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے گروہ بندیاں بھی جنم لے رہی تھیں۔
اب ٹی ٹی پی کو سب سے زیادہ تکلیف ڈرون حملوں کی وجہ سے تھی اور پی ٹی آئی کی ساری سیاست اس وقت ڈرون حملوں کے خلاف مظاہروں اور جدوجہد کے گرد گھوم رہی تھی۔ ویسے تو کئی اور جماعتیں بھی ڈرون حملوں کی گاہے گاہے مخالفت کررہی تھیں اور حکومت بھی ہر ڈرون حملے کے خلاف ایک بیان جاری کرلیتی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ڈرون حملوں کیلئے امریکیوں کو باقاعدہ ایک کاریڈور دے دیا تھا اور اس کاریڈور سے باہر کبھی امریکیوں نے حملہ نہیں کیا تھا۔ مثلاً اس میں کوئٹہ وغیرہ شامل نہیں تھے اس لئے وہاں افغان طالبان کی موجودگی کے باوجود امریکیوں نے کبھی کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا۔ لیکن اس عرصے میں عمران خان نے اپنی سیاست کا محور ڈرون حملوں کو بنایا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ ٹی ٹی پی جس چیز سے سب سے زیادہ پریشان تھی، وہی چیز سب سے زیادہ عمران خان صاحب کے نشانے پر تھی ، اس لئے انکے ہاں پی ٹی آئی کے بارے میں ایک نرم گوشہ پیدا ہوگیا کیونکہ بالواسطہ وہ انکی خدمت کررہے تھے۔دوسری بنیادی وجہ یہ تھی کہ چونکہ 2022تک عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھے اور اسٹیبلشمنٹ درپردہ افغان طالبان کو سپورٹ کررہی تھی ، اس لئے عمران خان کھل کر افغان طالبان کو سپورٹ کررہے تھے ۔چونکہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ تھے اور ٹی ٹی پی والے افغان طالبان کے امیر المومنین کو اپنا امیرالمومنین مانتے تھے ، اس لئے بھی وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔
پی ٹی آئی نے کسی ملٹری آپریشن (سوائے اے پی ایس کے بعد شمالی وزیر ستان آپریشن کے) کو سپورٹ نہیں کیا اور وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی رہی اسلئے بھی طالبان کا رویہ اس سے متعلق نرم رہا ۔2014کے دھرنوں سے قبل جبکہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں عروج پر تھیں ، پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کی قیادت سے پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت کے ذریعے براہ راست رابطہ قائم کیا ۔ وہاں جو وعدے وعید ہوئے اس کی رو سے ٹی ٹی پی نے دھرنے وغیرہ پر حملہ نہیں کرنا تھا جبکہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے خلاف نہیں بولنا تھا۔باہمی احترام کا یہ سلسلہ 2014ءسے جاری ہے ۔ تب سے لیکر اب تک ٹی ٹی پی ، پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بناتی جبکہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف نہیں بولتی۔
افغانستان میں طالبان کی کامیابی پر جہاں عمران خان نے یہ ارشاد فرمایا کہ افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں ، وہاں ایک موقع پر وہ ٹی ٹی پی کے روحانی پیشوا اسامہ بن لادن کو بھی شہید کہہ چکے تھے ۔ تب جنرل فیض حمید اور عمران خان نے مل کر افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی والوں کو واپس لاکر بسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت چند سو لوگ سوات میں واپس آئے اور چند خاندانوں کی شمالی اور جنوبی وزیرستان میں واپسی ہوئی لیکن منظور پشتین کی قیادت میں سوات میں اولسی پاسون کے نام سے ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کئے جسکی وجہ سے وہ لوگ واپس چلے گئے یا پھر مقام بدل لیا۔جنرل فیض حمید نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی کمٹمنٹ کے تحت120کے قریب ٹی ٹی پی کے گرفتار رہنماوں کو رہا کرنے کی بھی ہامی بھری تھی اور وزیراعظم ہاوس سے صدر عارف علوی کیلئے سمری بھی تیار ہوئی تھی کہ وہ ان کو عام معافی دیں لیکن چونکہ پی ٹی آئی کے اندر بھی کچھ لوگ اسکے مخالف تھے اس لئے اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا ۔ اسی طرح جب فیض حمید صاحب پشاور کے کورکمانڈر تھے اور وہاں ابھی پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی تو پی ٹی آئی حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کی قیادت میں انہوں نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیلئے ایک وفد افغانستان بھیجا لیکن چونکہ مرکز میں حکومت تبدیل ہوچکی تھی اور ٹی ٹی پی نے فاٹا مرجر کی واپسی جیسے مطالبات سامنے رکھے جو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں تھے اس لئے یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے –
یہی اصل پس منظر ہے پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے تعلقات کا ۔ اسی وجہ سے کبھی ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی پر حملہ نہیں کیا اور اسی وجہ سے پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف نہیں بولتی ۔پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں تیرہ سال حکومت کی لیکن یہ خدا کا شکر ہے کہ ان کے کسی رہنما کو ٹی ٹی پی کی طرف سے نشانہ نہیں بنایا گیا(اسرار گنڈاپور اور اکرام گنڈاپور کا کیس الگ نوعیت کا تھا) اور ان کے وزرائے اعلیٰ فوج کے دباو کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف سخت بیانیہ اپنانے سے اس لئے گریزاں تھے کہ انہیں علم تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اے این پی کے ساتھ ہوا تھا۔
