سائنسدانوں کا 2030 تک گاڑیوں کو بیکنگ پائوڈر سے چلانے کا دعویٰ

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2030 تک وہ گاڑیوں کو بیکنگ پائوڈر جبکہ جہازوں کو کھاد سے چلانے کے قابل ہو جائیں گے، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک ماہر کے مطابق ایسا عین ممکن ہے۔
فی الحال لیتھیم آئین بیٹریوں کو پائیدار توانائی کی جانب منتقلی کے عمل میں اہم کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بیٹریاں ٹیسلا، آئی فونز اور بغیر تار والی ڈرل مشینوں جیسے برقی آلات میں استعمال کی جا رہی ہیں۔
جہاں متعدد کمپنیوں کا ماننا ہے کہ ہائیڈروجن سے حاصل کی جانے والی توانائی ایوی ایشن کا ماحول دوست مستقبل ہے لیکن یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں آرگینک کیمسٹری کے پروفیسر بِل ڈیوڈ کا خیال ہے کہ عموماً کچن میں استعمال ہونے والا بیکنگ پاوڈر لیتھیم آئن بیٹریوں اور ہائیڈروجن ایندھن پر بازی لے جائے گا۔
پروفیسر بل ڈیوڈ کے مطابق نمک، سمندری پانی اور بیکنگ پاوڈر میں پایا جانے والا سوڈیم مستقبل میں کاروں اور روزمرہ کے گیجٹس میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کے طور پر سب پر سبقت لے جائے گا۔
