لیاقت باغ احتجاج،پی ٹی آئی کے58 رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج،103کارکن گرفتار

راولپنڈی پولیس نےلیاقت باغ او گردنواح میں ہونیوالےاحتجاج اور جھڑپوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے58 سےزائد مقامی رہنماؤں پر مقدمہ درج کرلیا جبکہ 103کارکنوں کوگرفتار کرلیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کیا گیاجس میں سیمابیہ طاہر،شہریار ریاض،اعجازخان جازی،راشدحفیظ،اجمل صابراور ناصرمحفوظ کونامزد کیا گیا۔
راولپنڈی پولیس کی جانب سےدرج مقدمے میں چوہدری امیر افضل، عمرتنویر بٹ اور ملک فیصل سمیت150 نامعلوم افرادکوبھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے میں دہشتگردی، اقدام قتل، توڑپھوڑ،کارسرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کےمتن کےمطابق ملزمان نےلیاقت باغ میں ریاست مخالف نعرے لگائے،کارکنان نےاسلحہ،ڈنڈےاورلاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں۔کارکنان نے پولیس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں پرپتھراؤ بھی کیا۔
ایف آئی آرکےمطابق کارکنان کےتشدد سےپولیس اہلکارمنیب عباس،اجمل خان زخمی ہوئے۔ملزمان کےپتھراؤ سےافسران کی گاڑیوں کونقصان پہنچاجبکہ ملزمان نےسرکاری اسلحہ چھین کرہوائی فائرنگ کی اورخوف و ہراس بھی پھیلایا۔
واضح رہے گزشتہ روز تحریک انصاف نےلیاقت باغ پراحتجاج کیا تھا جس دوران پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس دوران کئی کارکنان اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں دفعہ144 کےنفاذ کےباوجود احتجاج کرنے پر تحریک انصاف کے103 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا جن میں12خواتین بھی شامل ہیں۔
کارکنان کےخلاف5 تھانوں نےکل6مقدمات درج کیےہیں، تین مقدمات میں دہشت گردی کی دفعہ7 اے ٹی اےاور4 مقدمات میں 144خلاف ورزی دفعہ لگائی گئی۔
پی ٹی آئی کارکنوں پرشیلنگ،پختونخواحکومت کاقانونی کارروائی کااعلان
تمام گرفتار کارکنوں کوڈیوٹی جج کےپاس پیش کیاجائے گا، انصاف لائرزفورم لیگل ٹیم جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئی ہے۔مقدمات تھانہ سٹی،وارث خان،نیو ٹاؤن، سول لائن اور آر اے بازار نے درج کیے ہیں۔
