وطن عزیزکی حفاظت کیلئے ٹیم ورک کے طورپرکام کرنا ہوگا،مریم  نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہنا ہے کہ وطن عزیزکی حفاظت کیلے ایک ٹیم ورک کی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق سیکورٹی صورتحال اورقومی سلامتی کے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ،ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے حکومت پنجاب کے پیشگی اقدامات پربریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں سی پیک اور نان سی پیک پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی باشندوں سمیت غیر ملکی باشندوں کی سیکورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

 مون سون کے دوران سیلاب کے امکان کے پیش نظر امدادی سرگرمیوں کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔

پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ سمیت سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کاتفصیلی جائزہ لیاگیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہنا تھاکہ وطن عزیزکی خدمت اور حفاظت کے لئے ایک ٹیم ہیں۔ محرم الحرام کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہے ہر امر کاباریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔بہت سے عناصر امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بروقت اور ریگو لر رپورٹس بہت اہمیت رکھتی ہیں، ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لئے پیشگی اقدامات موثر اور بہترین ثابت ہوتے ہیں۔سیف سٹی سسٹم سے کسی بھی واقعہ میں ملوث افراد اور گاڑی کی نشاندہی ممکن ہوجاتی ہے۔

مریم نواز کاکہنا ہے کہ ہمیں محرم سمیت ہر ایونٹ سے پہلے ہی اپنی خامیوں پر قابو پانا ہوگاپنجاب بھر میں آر پی اوز ڈی پی اوز کو مجالس کی سیکورٹی خود چیک کرنے ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس افسران کو علما کے کرام کے پاس خود جانے کی ہدایت کی ہے۔ محرم الحرام مرکزی کنٹرول میں منسٹر بیٹھیں گے، لائیو سٹریمنگ سے ہر جلوس اور مجلس چیک کی جارہی ہے۔ساری مجالس کو سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے جیو ٹیگ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کاکہنا تھاکہ لاؤڈ سپیکر استعمال کرکے بعض عناصر اسلام اور اینٹی اسلام جیسی صورتحال پیدا کردیتے، حل سوچنا ہوگا۔نام نہاد عالم میرے خلاف فتوے جاری کررہاہے، ہم دین اسلام سے پیار اور پیروی کرنے والے لوگ ہیں۔ کسی مذہب کی توہین کرنے والا مسلما ن، عیسائی، سکھ اور ہندو نہیں بلکہ محض مجرم ہوتا ہے۔عوام کے لئے تکلیف دہ اقدامات سے گریز کیا جائے۔

ٹیکس آمدن میں اضافہ نہ کیا تو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، وزیر خزانہ

مریم نواز کاکہنا تھا کہ نفرت انگیز تقریر چیک رکھنا بہت ضرور ی ہے،کوشش ہوگی کہ موبائل سروس یا انٹر نیٹ بند نہ کیا جائے۔ضرورت  کے مطابق خطرے کی صورت میں جزوی طور موبائل جام کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔چینی باشندوں سمیت غیر ملکی افراد کی سکیورٹی کو ہر طرح سے فول پروف بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔بلٹ پروف گاڑی کے بغیر چینی باشندوں کی نقل وحمل نہیں ہوگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کاکہنا تھا کہ حکومت پنجاب بلٹ پروف وین اور بسیں منگوارہی ہے۔پنجاب میں ممکنہ سیلاب اور اربن سیلڈنگ کے سدا باب کے لئے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔لاہور میں بروقت نکاسی آب یقینی بنانے کے لئے اہم مقامات پر واسا کے کیمپ بھی قائم  کیے گئے ہیں۔رو د کوہی کی صورت میں بچاؤ کے لئے وقت بہت کم ہوتا ہے۔

مریم نواز کاکہنا تھاکہ ممکنہ سیلاب کی صورت میں عوام کی جان ومال کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کا انخلا بھی یقینی بنایا جائے گا۔15پرپہلی مرتبہ کال بیک کرنے سہولت دی جارہی ہے۔امن وا مان کے قیام کے لئے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے اجلاس میں علما ء سے تفصیلی ملاقات کرچکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کاکہنا تھاکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے باہمی تعاون کا سلسلہ قابل تحسین ہے۔حکومت پنجاب سے اشتراک کار کا عمل جاری رکھیں گے۔ ہمیں سیلاب سے بچنے کے لئے وسیع المدت پائیدار حفاظتی تدابیر کرنے کی ضرورت ہے۔سیکورٹی سے متعلق امور پر مشاورت سے فول پروف اقدمات کیے جائیں گے۔جدید ٹیکنالوجی کی مددلی جائے تاکہ سیکورٹی پرمامورکم از کم دستیاب نفری سے فرائض سرانجام دیے جا سکیں۔

اجلاس میں کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل سید عامررضا،چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر سیکورٹی حکام  نے شرکت کی۔

Back to top button