مولانا طارق جمیل کی عامر خان کو تبلیغی بنانے کی کہانی

مولانا طارق جمیل نے بھارتی اداکار عامر خان کو دورہ سعودی عرب کے دوران تبلیغی بنانے کی کوشش کا حال بیان کیا ہے۔ اپنی ایک ویڈیو میں مولانا طارق جمیل نے تفصیل سے بتایا ہے کہ انہوں نے کیسے مسٹر پرفیکشنسٹ کہلانے والے عامر خان کو گھیرنے کی کوشش کی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟
مولانا طارق جمیل بتاتے ہیں کہ میں سعودی عرب گیا ہوا تھا جب مجھے معلوم ہوا کہ بھارتی اداکار عامر خان بھی اپنی والدہ کے ہمراہ حج پر آیا ہوا ہے لہذا مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اسے تبلیغ کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے اپائنٹمنٹ لینے کی بہت کوشش کی مگر عامر خان نے میرا پروفائل سن کر صاف انکار کردیا۔ لیکن میں روزانہ کوشش کرتا رہا اور پھر آخر کار وہ مجھے دس منٹ دینے پر راضی ہوگیا۔
بقول مولانا، میں نے سوچا صرف دس منٹ ملے ہیں اگر میں نے ڈائریکٹ تبلیغ سے سٹارٹ لیا تو خدشہ ہے کہ ملاقات رائیگاں جائے گی۔ کیونکہ میں نے تھوڑی بہت مارکیٹنگ پڑھ رکھی تھی جس کا بنیادی اصول "اٹینشن کیپچنگ” یا توجہ کا حصول ہوتا ہے لہذا میں نے سٹارٹ ہی ستر کی دہائی کی فلموں اور گانوں سے لیا کیونکہ میں خود میڈیکل کالج میں ٹھیک ٹھاک ڈسکو لڑکا تھا۔ پانچ سات منٹ میں جب ماحول بن گیا تو میں نے عامر خان سے کہا کہ آپ حج پر اپنی والدہ کو ساتھ لائے ہیں، کیوں نہ میں آپ کو اپنے نبی کا حج کا ایک واقعہ سناؤں۔ عامر خان نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو باقی چار منٹ رہتے تھے۔کہنے لگا بس چار منٹ ہیں آپ کے پاس۔ مولانا بتاتے ہیں کہ میں نے جواب میں کہا کہ آپ بے فکر ہوجائیے، میں چار منٹ میں ہی ختم کردوں گا۔بس میں نے پھر جو شروع کیا تو عامر خان دم بخود ہوکر سننے لگا اور پورا ڈیڑھ گھنٹہ گذر گیا۔ اس نے ایک بار بھی گھڑی کی طرف نہ دیکھا۔ آخر میرا بیان ختم ہوا تو عامر بہت گرم جوشی سے گلے ملا اور میرا شکریہ ادا کیا ۔ہم دونوں نے واٹس ایپ نمبر تک ایکسچینج کر لئے۔میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ چلو اس بہانے میری عامر سے دوستی بھی پکی ہوگئی اور دین کا کام بھی ہوگیا۔ میں ساری رات بہت خوش تھا کہ میں نے ایک ایسے شخص کی کایا پلٹ دی ہے جو پچاس سال گانے بجانے اور نامحرم عورتوں کے ساتھ روز وشب گزارنے میں مصروف رہا۔ بقول مولانا طارق جمیل، مجھے لگا کہ میری ڈیڑھ گھنٹے کی تبلیغ میری تمام زندگی کی تبلیغ پر بھاری ہے۔ یہی سوچتے ہوئے نہ جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی۔ اگلے دن ہم دونوں کی واپسی کی فلائٹ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 65 سالہ شہری کے قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات
میں عصر کی نماز کے لئے وضو بنا رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ دیکھا تو عامر خان کا فون تھا۔ میں زیرلب مسکرایا کہ میرا ڈیڑھ گھنٹے کا لیکچر جس پر میں نے اپنی زندگی کا کامل تجربہ لگا دیا تھا بالآخر کامیاب ہوگیا ہے۔ میں نے جلدی سے کال ریسیو کی۔ دوسری جانب سے عامر خان بولا: "مولانا صاحب ! میری نئی فلم دھوم تھری کترینہ کیف کے ساتھ ریلیز ہونے والی ہے۔ کل میں آپ سے بہت متاثر ہوا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی دعا پر اثر ہوتی ہوگی لہذا آج مجھے واپس جاتے وقت خیال آیا کہ آپ سے اپنے لیے بھی دعا کرادؤں۔ مولانا بتاتے ہیں کہ اس کے بعد عامر خان نے ایک عجیب بات کی، اس نے کہا کہ آپ نے ہر نماز کے بعد خصوصی دعا کرنی ہے کہ میری کترینہ کے ساتھ فلم سپر ڈوپر ہٹ جائے۔ میں نے اس پر بہت محنت کی ہے اور اس سے اگلی فلم کی اوپننگ پر آپ کو بھی مدعو کروں گا۔آپ نے لازمی آنا ہے۔اور کم از کم "چالیس دن” کے لئے میرے ساتھ ہی رہنا یے۔ اور وہ کل آپ چلہ کاٹنے کے بارے میں جو کہہ رہے تھے، وہ آپ نے میری اگلی فلموں کی کامیابی کے لیے بھی کاٹنا ہے۔ میں بدلے میں آپ کو بالی ووڈ کی سیر کراؤں گا۔ مولانا کہتے ہیں کہ اس کے بعد عامر خان نے اور بھی عجیب بات کی اور بولا کہ میں آپ کے ٹیلنٹ کا مداح ہو گیا ہوں۔ میں نے آپ کے لئے دو تین کیریکٹرز بھی سوچ لئے ہیں۔ آپ میں بلا کا ٹیلنٹ ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا بھی میری طرح فلموں میں کام کرنے کا ذہن بن جائے۔ اس لیے نیت تو آپ ابھی سے کر لیں کیونکہ آپ نے ہی فرمایا تھا کہ کوئی بھی کام کرنے کے لئے نیت پہلی شرط ہوتی ہے۔ مولانا طارق جمیل اپنی کہانی ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عامر خان کی یہ گفتگو سننے کے بعد آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرا کیا حال ہوا ہوگا۔۔۔
