MQMمیں اختلافات شدید، متحدہ دوبارہ بکھرنے کو تیار

ایم کیو ایم پاکستان کے متحارب دھڑوں کی سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹتی دکھائی دیتی ہے۔متحدہ پاکستان کے تینوں دھڑوں میں آمدہ عام انتخابات کے لئے ٹکٹوں کی بندر بانٹ سمیت مختلف اختلافات کی وجہ سے پھوٹ پڑنا شروع ہوگئی ہے، دوسری جانب ایک بار پھر متحدہ پاکستان کے ناراض رہنماؤں نے پیپلز پارٹی سے بیک ڈور رابطے شروع کر دیئے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان میں ایک بار شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، اور بعض اہم رہنمائوں نے پارٹی چھوڑنے کی بھی دھمکی بھی دے دی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے ایک اہم ترین رہنما جو کراچی میں اہم عہدے پر بھی رہ چکے ہیں، ان کے کچھ اہم معاملات پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کی پیپلز پارٹی کی ایک اہم ترین خاتون رہنما کے ساتھ ملاقات کی خبریں بھی گرم ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پی پی میں شمولیت کی بھی دھمکی دی ہے۔ ہفتے کو رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے اختلافات پر سخت گرما گرمی کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے تینوں دھڑوں کے ملنے کے باوجود یہ آپس میں متحد نہیں ہوسکے ہیں۔ متحدہ پاکستان کے بعض رہنما اس حوالے سے شدید ناراض ہیں کہ پاک سرزمین پارٹی نے متحدہ پاکستان کو ہائی جیک کر لیا ہے اور مصطفیٰ کمال اور دیگر لوگ اپنی بات منوا رہے ہیں، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار، متحدہ کو ماضی کی طرح دھونس دھمکی اور بلیک میلنگ والی پارٹی بنانا چاہتے ہیں جبکہ متحدہ پاکستان کے بعض رہنما اپنا تسلط رکھنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متحدہ پاکستان کے بعض رہنما ناراض ہوکر دفاتر نہیں آرہے ہیں اور بعض پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیوں میں جانے کے لئے پرتول رہے ہیں۔ یہی صورتحال پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار گروپ کی رہنمائوں کی ہے کہ جو متحدہ پاکستان کے ساتھ ملنے پر خوش نہیں تھے اور اب دوسری پارٹیوں میں جانے کے حوالے سے کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متحدہ پاکستان کے سینئر رہنما عامر خان جو اپنا بڑا گروپ رکھتے ہیں، تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مداحلت نہیں کر رہے ہیں۔ متحدہ پاکستان کے پرانے ناراض رہنما، عامر خان کو مداخلت کے لئے کہہ رہے ہیں اور دبائو ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب گورنر سندھ کے ذریعے پیپلز پارٹی اور متحدہ پاکستان میں بیک ڈور رابطے شروع ہوچکے ہیں۔ متحدہ پاکستان اب عام انتخابات میں بھرپور حصہ لینے والی پیپلز پارٹی سے جوڑ توڑ کر رہی ہے کہ دونوں پارٹیاں طے کرکے الیکشن میں حصہ لیں اور نشستیں بانٹ لیں۔ جبکہ متحدہ پاکستان ایک بار پھر عام انتخابات میں جیت کی صورت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سندھ کابینہ میں شامل ہونے کے چکر میں ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابھی تو ٹکٹوں کے حوالے سے آپس میں ناچاقی چل رہی ہے اور بہت جلد یہ ناراضگی، رہنمائوں کی دوسری پارٹیوں میں شمولیت پر نظر آجائے گی

Back to top button