بلوچ گلوکارکے گانے کا وزیراعظم کاکڑ نے نوٹس کیوں لیا؟

نگران وزیراعظم کی بلوچستان کے پنجرہ پل کی طرف متوجہ مبذول کرانے والے بلوچ گلوکار کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد گیت ’’وزیراعظم کاکڑ صاحب پنجرہ پل بناؤ، بلوچستان دھرتی سے اپنا فرض نبھاؤ‘‘ کو پسند کر رہی ہے۔پنچرہ پل گذشتہ برس آنے والے سیلاب میں بہہ گیا تھا جس کے بعد ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے اور سابق وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے پل بنانے کے وعدے کے باوجود پل نہ بننے پر مقامی شہریوں کی بے چینی بڑھ رہی ہے جس کا اظہار اس گیت میں بھی کیا گیا ہے۔گلوکار گل میر جمالی بھی سیلاب متاثرین میں شامل ہیں اور انہوں نے یہ گیت گا کر منفرد انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔وہ بلوچستان کی نصیرآباد ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز ڈیرہ مراد جمالی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے اس گیت میں نگران وزیراعظم کی توجہ سیلاب سے متاثرہ عوام اور پنجرہ پل کی عدم تعمیر کی وجہ سے مقامی آبادی کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کی جانب دلائی ہے، لوگ اسے شیئر کرکے پل کی جلد سے جلد تعمیر کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔گل میر جمالی گزشتہ 30 برسوں سے گلو کاری کررہے ہیں اور ان کے زیادہ گیت بلوچی زبان میں ہیں۔گل میر جمالی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچی میری مادری زبان ہے، اردو بولتے ہوئے مجھے کچھ مشکل پیش آتی ہے، اس لیے یہ گانا بنانے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ میں مکمل ہوا۔’یہ گیت بدھ کی شام کو انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کیا گیا تھا جس کے فوری بعد ہی یہ وائرل ہو گیا جسے پاکستان کے علاوہ سعودی عرب اور دبئی میں رہنے والے متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے بھی سراہا ہے۔گل میر جمالی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ سال آنے والے سیلاب سے ان کا علاقہ بھی متاثر ہوا تھا۔ میں چوںکہ خود سیلاب سے متاثر ہوا ہوں تو اس لیے متاثرین کی مشکلات اور درد کا احساس ہے۔ پنجرہ پل کوئٹہ سے تقریباً 110 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع کچھی میں قومی شاہراہ این 65 پر بولان ندی پر واقع تھا جو گذشتہ سال اگست میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں میں بہہ گیا تھا۔گل میر جمالی نے کہا، ’کچھ روز قبل جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے انوار الحق کاکڑ پاکستان کے نگراں وزیراعظم بنے تو خیال آیا کہ کیوں نہ وزیراعظم کی توجہ اس جانب دلائی جائے، انہوں نے بلوچی، براہوی، سندھی اور پشتو سمیت کئی زبانوں میں گایا ہے اور اس سے قبل بھی علاقے کی ثقافت کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی مسائل پر گلوکاری کر کے آواز بلند کی ہے۔خیال رہے کہ رواں برس جون میں سبی اور کچھی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے دس سے زیادہ نوجوانوں نے کوئٹہ سے پنجرہ پل تک پیدل لانگ مارچ کرکے پل کی عدم تعمیر کے خلاف احتجاج ریکارڈ  کرایا تھا۔این ایچ اے حکام کے مطابق، بلوچستان میں گذشتہ سال آنے والے سیلاب سے پنجرہ پل سمیت 18 بڑے پل تباہ ہوئے تھے جن کی تعمیر نو پر 20 ارب روپے سے زائد لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور پنجرہ پل کی تعمیر کا آغاز یکم ستمبر سے کردیا جائے گا۔گانا اس قدر وائرل ہوا کہ نگراں وزیر اعظم نے پل تعمیر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پنجرہ پل کی تعمیر نو کے لیے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ بہت جلد بلوچستان کے عوام کا یہ دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

Back to top button