نون لیگ کون سی خفیہ آڈیوزاور ویڈیوز سامنے لانے والی ہے؟

مسلم لیگ ن نے آئندہ عام انتخابات میں مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے اور پارٹی قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے والی اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز اور ویڈیوز سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن  نے 2018 میں اسٹیبلشمنٹ مخالف ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ عوام کو دیا اور اسی بیانیے پرالیکشن لڑا، جس کوعوام کے اندر خوب پذیرائی ملی اور اس وقت ووٹ کوعزت دو کا نعرہ اتنا مشہور ہوگیاکہ ہر کوئی ووٹ کو عزت دو لکھنے اور گنگنانے لگ گیا۔اس دوران نواز شریف جب لندن علاج کی غرض سے چلے گئے تو مریم نواز اس بیانیہ کو لیکر آگے بڑھیں اور اسی بیانیہ کے تحت گزشتہ حکومت کے دوران متعدد ضمنی الیکشنز میں مسلم لیگ ن کو کامیاب کرایا تاہم الیکشن نزدیک آنے کے ساتھ یہ سوال سیاسی حلقوں میں زیر گردش ہے کہ آمدہ عام انتخابات میں نون لیگ کیا بیانیہ اپنائے گی؟ ذرائع کے مطابق لندن میں ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورت میں ن لیگ نے اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز سامنے لانے اور مخالفین کیخلاف جارحانہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق ن لیگ کی انتخابی مہم میں ملکی تباہی کی ذمہ داری پاناما جے آئی ٹی کے اراکین، سابقہ سپہ سالار، سابق آئی ایس آئی چیف، ججز، سابق نیب چئیرمن، پی ٹی آئی کے چئیرمن اور دیگر پر عائد کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی لندن میں ہونے والی بڑی بیٹھک میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات میں مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن انتخابی مہم میں اپنے ساتھ ہونے والی انتقامی کارروائیوں کو ڈاکومینٹری کی صورت میں سامنے لائے گی، انتخابی مہم کے دوران اداروں کے بجائے چند اہم شخصیات کو ہدفِ تنقید بنایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف انتخابی مہم میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، سابق ججز آصف سعید کھوسہ اور شیخ عظمت سعید سمیت دیگر کے پس پردہ کردار کے حوالے سے اہم انکشافات کریں گے، پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم میں کچھ اہم شخصیات کی خفیہ آڈیوز بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔فیصلہ کیا گیا کہ ن لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کی معاشی، سماجی اور سیاسی ابتری کے ذمہ داروں کے نام اجاگر کئے جائیں گے، ملکی ابتر صورتحال کی ذمہ داری پاناما جے آئی ٹی کے اراکین، سابقہ سپہ سالار، سابق آئی ایس آئی چیف، ججز، سابق نیب چئیرمن، پی ٹی آئی کے چئیرمن سمیت دیگر پر عائد کی جائے گی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز اپنے ساتھ ہونے والی سازش کے پس پردہ محرکات کو سامنے لائیں گے، شہباز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عوامی اجتماعات میں مصالحانہ رویہ بھی اپنائیں گے، انتخابی مہم کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنے ادوار کے ترقیاتی منصوبوں پر بات کریں گے۔فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے گی، کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔

دوسری طرف آئندہ انتخابات میں نون لیگ کے بیانیہ بارے سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ میں مسلم لیگ ن کا اگلا بیانیہ عدلیہ مخالف ہوگا، نواز شریف اور مریم نواز اپنے ہرجلسے میں ججز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نظر آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ مخالف بیانیے میں عوام کو یہ بتائیں گے کہ کس طرح نواز شریف اور مریم نواز کو نااہل کروا کے انہیں سزا ئیں دلوائی گئی ہیں۔سہیل ورڑائچ کے مطابق عوامی جلسوں اور الیکشن کیمپینزمیں ملک کی ترقی کے نئے وعدے، معیشت کو ٹھیک کرنے کی باتیں کی جائیں گی، کیونکہ مسلم لیگ ن کے اندر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ عدلیہ مخالف بیانیہ کامیاب ہوجائے گا اور مسلم لیگ ن بہتر پوزیشن حاصل کر سکے گی۔

دوسری جانب سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھاکہ اس دفعہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ نہیں ہوگا کیونکہ سیاست میں بیانیے مستقل نہیں ہوتے ہر آنے والے دور میں لیڈران کی رائے، بیانات، سوچ بدلتی رہتی ہے اور پاکستان جیسے ملک میں تو لیڈران اپنی کہی ہوئی باتوں سے یوٹرن لیتے ایک ذرا گریز نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ ہر جماعت حالات کو دیکھ کر اپنا سلوگن اور بیانیہ تبدیل کر لیتی ہے، اس وقت ملک کو معاشی مشکلات کے چیلنجز درپیش ہیں، انرجی کرائسزاوردہشت گردی کا سامنا ہے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ن لیگ کے اندر صلاحیت موجود ہے اور لگتا یہی ہے کہ آمدہ الیکشن میں ن لیگ کا منشور انھی مسائل کے حل پر مشتمل ہو گا۔

Back to top button