امریکہ۔ایران امن معاہدہ: امریکہ کی ایک اور جنگی شکست

 

 

 

 

ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے امن معاہدے اور جنگ بندی کو بین الاقوامی میڈیا میں امریکہ کی ایک اور جنگی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔ مغربی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جنگ کا بنیادی مقصد مخالف فریق کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہو اور وہ مقصد حاصل نہ ہو سکے تو اسے فوجی کامیابی نہیں بلکہ شکست کہا جائے گا۔ ان کے مطابق فروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کا مقصد ایران کی مزاحمتی صلاحیت کو توڑنا، اس کے جوہری پروگرام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور تہران کو سیاسی طور پر جھکنے پر مجبور کرنا تھا، لیکن کئی ماہ کی شدید بمباری اور اقتصادی دباؤ کے باوجود یہ اہداف حاصل نہ ہو سکے اور صدر ٹرمپ کو ایرانی شرائط تسلیم کرتے ہوئے امن معاہدے پر مجبور ہونا پڑا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی سیاسی استقامت اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا غلط اندازہ لگایا۔ ٹرمپ کو توقع تھی کہ معاشی پابندیوں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور فوجی حملوں کے نتیجے میں ایران چند ہفتوں میں مذاکرات کی میز پر آ کر امریکی شرائط تسلیم کر لے گا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ اس جنگ کے دوران ایران کو بھاری عسکری نقصان ضرور پہنچا۔ اس کے کئی فوجی اور سویلین رہنما مارے گئے جبکہ اہم عسکری تنصیبات بھی نشانہ بنیں، تاہم ایرانی ریاست نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس نے امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مذاکرات کا آغاز کسی ہتھیار ڈالنے والی فضا میں نہیں بلکہ نسبتاً برابری کی سطح پر ہو رہا ہے۔

 

بین الاقوامی امور کے ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر امریکہ واقعی اپنے مقاصد حاصل کر لیتا تو جوہری پروگرام کا معاملہ فوری طور پر اس کی شرائط کے مطابق حل ہوتا، لیکن موجودہ فریم ورک میں یہ مسئلہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ جنگ اپنے بنیادی ہدف تک نہیں پہنچ سکی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی زبان اور پالیسی میں آنے والی تبدیلی بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ چند ماہ قبل تک ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ بیانات دینے والی امریکی قیادت اب مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کی بات کر رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق جنگی میدان میں مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد واشنگٹن کو سفارتی راستہ اختیار کرنا پڑا۔

اس پوری سفارتی پیش رفت میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال رکھنے میں کردار ادا کیا بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کی مدد سے اعتماد سازی کے عمل کو بھی آگے بڑھایا۔

 

اپریل میں ہونے والے "اسلام آباد مذاکرات” کسی معاہدے پر تو منتج نہیں ہوئے تھے لیکن انہوں نے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خلیجی ریاستوں کا دباؤ بھی اس عمل کا ایک اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں سب سے زیادہ معاشی اور سکیورٹی نقصان انہی ممالک کو برداشت کرنا پڑا۔ ان کے ہاں موجود امریکی فوجی اڈے ایرانی جوابی حملوں کا نشانہ بنے جبکہ تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان ممالک نے واشنگٹن پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا۔ امریکی داخلی سیاست میں بھی اس تنازع نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی نے عوامی سطح پر بے چینی پیدا کی۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامی حلقے بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروپ جنگ کے آغاز کا حامی تھا جبکہ دوسرا ابتدا ہی سے فوجی مداخلت کے خلاف تھا۔

 

یورپی اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بھی اس بحران کے دوران کشیدہ رہے۔ کئی مغربی ممالک نے اس جنگ کی کھل کر حمایت نہیں کی اور اسے غیر ضروری تنازع قرار دیا۔ یورپی معیشتوں کو توانائی کے بحران اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے واشنگٹن کی سفارتی تنہائی میں اضافہ ہوا۔ اس معاہدے کے بعد سب سے بڑا سوال اسرائیل کے کردار کے بارے میں اٹھ رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے نہ صرف معاہدے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں بلکہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ بعض اسرائیلی وزرا نے کھل کر اس معاہدے کی مخالفت کی ہے اور اسے اسرائیلی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل اور لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے ساٹھ دنوں کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جن میں مستقل امن معاہدے کی بنیاد رکھی جانی ہے۔

جنگ ختم،امریکا اور ایران نے معاہدے پر دستخط کر دئیے، معاہدہ نافذ

ایران اور امریکہ جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ عرب اور خلیجی ممالک نے محسوس کیا کہ امریکہ پر مکمل سکیورٹی انحصار انہیں مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کر سکا۔ اسی پس منظر میں ایران اور بعض عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ کئی تجزیہ کار صدر ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں جس میں انہوں نے امریکہ کو مشرق وسطیٰ کا "محافظ” بننے کے بدلے خطے کی آمدنی میں حصہ لینے کی تجویز دی تھی۔ ناقدین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب خطے میں براہ راست جنگی مہمات کے بجائے نئے معاشی اور سفارتی فارمولے تلاش کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی امن معاہدہ سفارت کاری کی ایک اہم کامیابی ضرور ہے، لیکن اس نے ایک بڑی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ بہت سے بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے نزدیک اگر امریکہ کو بالآخر انہی مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑا جہاں سے جنگ سے پہلے معاملات حل ہو سکتے تھے تو یہ دراصل ایک اور ایسی جنگی مہم کا اختتام ہے جس کا آغاز واشنگٹن نے خود کیا، بھاری سیاسی و معاشی قیمت ادا کی، مگر اپنے بنیادی اہداف حاصل نہ کر سکا۔ تاہم حتمی فیصلہ اس وقت ہوگا جب آنے والے ہفتوں میں مستقل امن معاہدہ طے پاتا ہے یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔

Back to top button