پنکی کا خفیہ مالیاتی نیٹ ورک چلانے والے 10بااثر افراد کون؟

کوکین کوئین انمول عرف پنکی ڈان کے خلاف جاری تحقیقات نے ایک ایسے پیچیدہ مالیاتی نظام کا پردہ چاک کر دیا ہے جس میں درجنوں بینک اکاؤنٹس، کروڑوں روپے کی مشتبہ ٹرانزیکشنز، قیمتی جائیدادیں اور ہزاروں رابطوں پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔ ایف آئی اے اور سندھ پولیس کی مشترکہ تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنکی نے خود کو براہ راست مالی سرگرمیوں سے دور رکھتے ہوئے اپنے بااعتماد ساتھیوں کے ذریعے ایسا نظام قائم کر رکھا تھا جو طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکما دینے میں کامیاب رہا۔
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی ڈان کے خلاف جاری منی لانڈرنگ تحقیقات میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم کی ابتدائی چھان بین سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ نے اپنی تمام مالی سرگرمیوں کو انتہائی منظم انداز میں خفیہ رکھا اور اپنے نام پر نہ تو کوئی بینک اکاؤنٹ استعمال کیا اور نہ ہی کسی بڑی مالی ٹرانزیکشن میں براہ راست شریک ہوئی۔ تحقیقات کے مطابق پنکی کے نیٹ ورک کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کو ملک بھر میں موجود 26 مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔ یہ تمام اکاؤنٹس ملزمہ کے 10 قریبی اور بااعتماد ساتھیوں کے نام پر کھولے گئے تھے، جو رقم کی وصولی، منتقلی اور تقسیم کا کام انجام دیتے تھے۔ بعد ازاں یہ رقوم نقد شکل میں ملزمہ تک پہنچائی جاتی تھیں تاکہ مالیاتی لین دین کا براہ راست ریکارڈ اس کے نام سے منسلک نہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق پنکی نے اپنا قومی شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باوجود اس صورتحال کو کمزوری بننے نہیں دیا بلکہ اسے اپنے حق میں استعمال کیا۔ اس نے خود کو تمام سرکاری اور بینکاری معاملات سے الگ رکھتے ہوئے پس پردہ رہ کر پورا نظام چلایا، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اس تک براہ راست رسائی مشکل رہی۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ کے زیر استعمال قیمتی گاڑیاں، بنگلے، فلیٹس اور دیگر اثاثے بھی اس کے نام پر رجسٹرڈ نہیں تھے۔ بیشتر جائیدادیں اس کے شوہر اور دیگر قریبی ساتھیوں کے ناموں پر درج ہیں۔ اسی بنیاد پر ایف آئی اے اب ان اثاثوں کی خریداری کے ذرائع اور ان میں استعمال ہونے والی رقوم کی مکمل چھان بین کر رہی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پہلے مختلف اکاؤنٹس میں تقسیم کی جاتی، پھر متعدد بینکوں کے ذریعے منتقل کی جاتی اور آخرکار نقد رقم کی صورت میں نکال لی جاتی تھی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ طریقۂ کار منی لانڈرنگ کے کلاسیکل ماڈل سے مماثلت رکھتا ہے، جس کا بنیادی مقصد رقم کے اصل ماخذ کو چھپانا اور تفتیشی اداروں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔
کیس کا ایک اور اہم پہلو ڈیجیٹل شواہد ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی فرانزک رپورٹ کے مطابق پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا برآمد ہوا ہے۔ اس ڈیٹا میں 75 ہزار سے زائد پیغامات، آن لائن ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ، بینک سلپس، اسکرین شاٹس اور دیگر مالیاتی دستاویزات شامل ہیں، جنہیں تفتیشی ادارے انتہائی اہم شواہد قرار دے رہے ہیں۔مزید برآں، موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے رابطوں کا ریکارڈ بھی ملا ہے، جو حکام کے مطابق غیرمعمولی تعداد ہے۔ اب یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان رابطوں میں سے کتنے افراد نیٹ ورک کا حصہ تھے اور کتنے صرف سماجی یا کاروباری روابط تک محدود تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ ایک ہی موبائل فون میں دو مختلف واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی۔ ایک اکاؤنٹ عام رابطوں کے لیے جبکہ دوسرا مبینہ طور پر مالیاتی معاملات اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تفتیشی ادارے دونوں اکاؤنٹس سے حاصل شدہ ڈیجیٹل شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔حکام کے مطابق یہ کیس اب صرف منشیات فروشی تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع مالیاتی نیٹ ورک، منی لانڈرنگ اور اثاثوں کی چھپائی کے پیچیدہ معاملات تک پھیل چکا ہے۔ ایف آئی اے اور سندھ پولیس کی مشترکہ تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید شواہد سامنے آنے پر کئی نئے کردار بھی بے نقاب ہو سکتے ہیں۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات محض ابتدائی سطح کی ہیں اور اصل حقائق مزید تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گے۔ اگر موجودہ شواہد عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ مقدمہ پاکستان میں منشیات اور منی لانڈرنگ کے نمایاں ترین کیسز میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
