حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 18 فیصد اضافے کی تجویز پیش کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی غیر یقینی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان سے درپیش خطرات اور جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے رواں سال دفاعی بجٹ میں بڑے اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تاہم معاشی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا محدود مالی وسائل، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور عوامی مسائل کے درمیان دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ معیشت پر مزید دباؤ کا باعث بنے گا یا قومی سلامتی کے لیے ایک ضروری سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔
خیال رہے کہ گذشتہ مالی سال (26-2025) میں دفاعی بجٹ میں 20.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 2550 ارب روپے مختص کیے گئے تھے تاہم بعدازاں نظرثانی کے بعد یہ رقم بڑھ کر 2595 ارب ہو گئی تھی۔ 2024 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے اپنا پہلا بجٹ (برائے سال 25-2024) پیش کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 318 ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 2122 ارب روپے مختص کیے تھے۔ یعنی سادہ الفاظ میں گذشتہ تین برس کے دوران دفاع کے بجٹ میں 878 ارب روپے کا مجموعی اضافہ ہوا یعنی پاکستان کا دفاعی بجٹ ملک کے مجموعی 18 ہزار ارب روپے حجم کے بجٹ برائے 27-2026 کا تقریباً 16.67 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 18 فیصد اضافے کی تجویز نے ملک میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے تقاضوں، خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور جدید جنگی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ معاشی مشکلات کے دور میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ترقیاتی اور سماجی شعبوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان کو ایسے خطے میں اپنی سلامتی یقینی بنانا ہے جہاں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی طاقتوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت کے مطابق قومی دفاع پر سرمایہ کاری ریاستی بقا اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اب صرف روایتی فوجی قوت ہی کافی نہیں بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید نگرانی کے نظام بھی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔حالیہ برسوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے بھی دفاعی منصوبہ بندی پر اثر ڈالا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی اپنی افواج کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کے باعث اسلام آباد پر بھی دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔تاہم پاکستان کو صرف مشرقی سرحد پر ہی نہیں بلکہ مغربی محاذ پر بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان سے متصل علاقوں میں سکیورٹی خدشات، دہشت گرد حملوں میں اضافہ اور سرحدی کشیدگی نے بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
دوسری جانب معاشی ماہرین اس فیصلے کے معاشی اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور بجٹ خسارے میں کمی کے اہداف پر عمل پیرا ہے۔ ایسے حالات میں دفاعی اخراجات میں اضافے سے ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں دفاعی اخراجات کو ہمیشہ ترجیح حاصل رہی ہے اور حکومتیں قومی سلامتی کو اولین ترجیح سمجھتی رہی ہیں۔ تاہم موجودہ معاشی صورتحال میں اصل چیلنج یہ ہوگا کہ دفاعی ضروریات اور عوامی فلاح کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے دفاعی بجٹ کا تقابل بھی اس بحث کا اہم پہلو ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی بڑی معیشت اور وسیع مالی وسائل ہیں۔ پاکستان محدود معاشی وسائل کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جو مالی منصوبہ بندی کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق دفاعی بجٹ میں اضافہ وقتی طور پر قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل المدت استحکام کے لیے مضبوط معیشت، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور انسانی وسائل میں بہتری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اسی لیے آئندہ مہینوں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ پاکستان کو اپنے محدود وسائل کو کس تناسب سے دفاع اور ترقی کے درمیان تقسیم کرنا چاہیے۔ مبصرین کے بقول پارلیمنٹ میں بجٹ منظوری کے عمل کے دوران دفاعی اخراجات پر ہونے والی بحث اس امر کا تعین کرے گی کہ حکومت قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔