گلگت بلتستان: کیا فوج PPP کی حکومت نہیں بننے دے گی؟

گلگت بلتستان کے اسمبلی الیکشن کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوتے ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ متحرک ہو گئی ہے اور پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے سے روکنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار نومنتخب آزاد ارکان اسمبلی کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ہوئی ہے کیونکہ پہلے یہ چاروں اراکین پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لیے تیار ہو چکے تھے۔
اس پیش رفت کے بعد نہ صرف پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کے امکانات کم ہو گئے ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور شکوک و شبہات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے انور علی، ڈاکٹر اسد شفیق، محمد دلپذیر اور امان علی امیر نے وفاقی وزیر اور آئی پی پی کے سربراہ عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ یہ چاروں ارکان ایسے وقت میں آئی پی پی کا حصہ بنے ہیں جب گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی قوتیں متحرک ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ عام طور پر انتخابات کے بعد آزاد امیدوار اس جماعت میں شامل ہوتے ہیں جس کی حکومت بننے کے امکانات سب سے زیادہ ہوں یا پھر دوسری بڑی جماعت کا رخ کرتے ہیں تاکہ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی اور ترقیاتی منصوبوں میں حصہ مل سکے۔
مگر گلگت بلتستان میں سامنے آنے والی صورتحال معمول سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی نہ تو انتخابات میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکی اور نہ ہی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، اس کے باوجود چار آزاد ارکان کا 11 نشستیں جیتنے والی پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونا سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ عبدالعلیم خان نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں پہلی مرتبہ استحکام پاکستان پارٹی کی نمائندگی قائم ہوئی ہے اور پارٹی خطے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ آئی پی پی دیانت داری اور محنت کے ذریعے عوامی خدمت کو یقینی بنائے گی۔
یاد رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں حاصل کیں۔ چار آزاد امیدوار، دو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار اور مجلس وحدت المسلمین کا ایک امیدوار بھی کامیاب ہوا تھا جبکہ تین نشستوں کے نتائج تاحال متوقع ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 13 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ اسی لیے آزاد ارکان کی سیاسی وابستگی کو حکومت سازی کے عمل میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور ان کے فیصلے مستقبل کی سیاسی صف بندی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگی اور اس کے ارکان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ اس اعلان کے بعد بظاہر پیپلز پارٹی کے لیے حکومت سازی کی راہ ہموار دکھائی دے رہی تھی۔
تاہم چار آزاد ارکان کی آئی پی پی میں شمولیت نے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں اور حلقوں کا مؤقف ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے وہ عناصر جو پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں اقتدار میں دیکھنے کے خواہاں نہیں، وہ متبادل سیاسی بندوبست کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
پیپلز پارٹی کے اندر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کو ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھی جانے والی جماعت قرار دیا جاتا رہا ہے، اسی لیے چار آزاد ارکان کی اچانک اس جماعت میں شمولیت کو محض ایک سیاسی اتفاق نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے مستقبل کی ممکنہ سیاسی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان میں اس وقت غیر یقینی کی فضا موجود ہے۔ بعض حلقوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں جبکہ کچھ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے اور بعض علاقوں میں دوبارہ پولنگ کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ہر نئی سیاسی پیش رفت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاق میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات بھی مکمل طور پر مثالی نہیں سمجھے جا رہے۔ حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے اور بلاول بھٹو زرداری نے بعض حکومتی اقدامات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سیاسی حلقوں کو اب بھی وہ مرحلہ یاد ہے جب بجٹ اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی کی جانب سے اجلاس میں محدود شرکت کے اشارے دیے گئے تھے اور شازیہ مری، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی سمیت متعدد رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کی تھی۔ بعد ازاں مختلف رابطوں اور ملاقاتوں کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی۔
ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے بھی بلاول بھٹو سے ملاقاتیں کیں جبکہ بعد میں وفاقی وزیر محسن نقوی کی ملاقات کے بعد معاملات میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کی، تاہم سیاسی اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بلاول بھٹو کے حالیہ بیانات بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "فارم 45 آپ سنبھالیں، فارم 47 کو میں خود سنبھال لوں گا”، جسے سیاسی مبصرین نے صوجی اسٹیبلشمنٹ اور انتخابی عمل کے حوالے سے ان کے تحفظات کا اظہار قرار دیا۔
آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ آمنے سامنے کیوں آ گئیں؟
ادھر بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آزاد ارکان کی آئی پی پی میں شمولیت کا مقصد صرف حکومت سازی نہیں بلکہ گلگت بلتستان میں ایک ایسی سیاسی قوت کو منظم کرنا بھی ہو سکتا ہے جو مستقبل میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکے۔ ان کے مطابق اگر خطے میں سیاسی عدم استحکام برقرار رہتا ہے تو استحکام پاکستان پارٹی کا کردار توقعات سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں سینیٹر فیصل واوڈا کے حالیہ بیانات اور سیاسی اشاروں کو بھی بعض حلقے اہم قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پس پردہ سیاسی رابطے اور مستقبل کی صف بندیاں ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں اور آنے والے چند روز گلگت بلتستان کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ فی الحال سب کی نظریں باقی ماندہ تین نشستوں کے نتائج اور حکومت سازی کے عمل پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ عددی اعتبار سے پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی مضبوط امیدوار ہے، تاہم چار آزاد ارکان کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ آیا گلگت بلتستان میں اقتدار کی جنگ ابھی ختم ہوئی ہے یا اصل سیاسی مقابلہ اب شروع ہونے والا ہے۔
