آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ آمنے سامنے کیوں آ گئیں؟

آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پیپلز پارٹی اور نون لیگ آمنے سامنے آ گئیں۔آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو متوقع عام انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن شیڈول واپس لینے کے مطالبے نے ایک نئی آئینی اور سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن)، الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت اور متعدد سیاسی مبصرین اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انتخابات کے بروقت انعقاد پر زور دے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا آزاد کشمیر میں جمہوری عمل مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا یا سیاسی کشیدگی انتخابی ماحول کو مزید متاثر کرے گی؟

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے اعلان کے بعد سیاسی میدان میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے ریاست کی موجودہ صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے الیکشن شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے بروقت انتخابات کے انعقاد پر زور دے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں انتخابی سرگرمیوں کا آزادانہ اور مؤثر انعقاد ممکن نہیں، اس لیے الیکشن شیڈول پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ اس مطالبے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور کسی سیاسی جماعت کی خواہش پر انتخابی عمل کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزرا بھی متعدد مواقع پر اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ آزاد کشمیر میں آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے بھی اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی شیڈول کسی عجلت میں جاری نہیں کیا گیا بلکہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ادارہ انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ نہ صرف آئینی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے بلکہ ریاست میں جمہوری تسلسل پر بھی سوالات اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں انتہائی مشکل حالات، قدرتی آفات اور سیاسی بحرانوں کے باوجود آزاد کشمیر میں انتخابات بروقت منعقد ہوتے رہے ہیں۔

ادھر کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں کو بھی اس بحث کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی بڑی حد تک جاری ہیں اور احتجاج محدود علاقوں تک محدود ہے، اس لیے انتخابی عمل کو روکنے یا ملتوی کرنے کا جواز کمزور دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ریاستی ادارے ہر ممکن حد تک انتخابی عمل کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کا مطالبہ ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، تاہم آئینی اور قانونی اعتبار سے انتخابات کا بروقت انعقاد ہی سب سے مضبوط امکان دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں میں نامزدگیوں یا انتخابی مراحل کے شیڈول میں محدود ردوبدل کی بات کی جا رہی ہے، لیکن مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے 27 جولائی کو منعقد ہونے کے امکانات بدستور زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم، سیکیورٹی صورتحال اور الیکشن کمیشن کے انتظامات اس بات کا تعین کریں گے کہ انتخابی ماحول کس سمت جاتا ہے، تاہم فی الحال ریاستی ادارے اور بیشتر سیاسی قوتیں بروقت انتخابات کے حق میں دکھائی دیتی ہیں۔

Back to top button