امریکہ سے امن معاہدے پر ایرانی سراپا احتجاج کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمت کو جہاں تہران کی قیادت تاریخی کامیابی اور مزاحمت کی فتح قرار دے رہی ہے وہیں دوسری جانب ایرانی قیادت کو امریکہ سے امن معاہدہ کرنے پر ملک کے اندر سے ہی سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایک طرف حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جنگ، پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کیا، جبکہ دوسری جانب سخت گیر سیاسی حلقے اس معاہدے کو قومی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ دستاویز ایران کو امریکی اثر و رسوخ کے تابع بناتے ہوئے تہران کو امریکہ کی ایک کالونی بنا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب معیشت شدید دباؤ، مہنگائی عروج پر اور عوام نئی جنگ کے خدشات سے پریشان ہیں، اس معاہدے نے ایران کے اندر ایک نئی سیاسی، معاشی اور نظریاتی بحث چھیڑ دی ہے۔

Back to top button