امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمت کو جہاں تہران کی قیادت تاریخی کامیابی اور مزاحمت کی فتح قرار دے رہی ہے وہیں دوسری جانب ایرانی قیادت کو امریکہ سے امن معاہدہ کرنے پر ملک کے اندر سے ہی سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایک طرف حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جنگ، پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کیا، جبکہ دوسری جانب سخت گیر سیاسی حلقے اس معاہدے کو قومی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ دستاویز ایران کو امریکی اثر و رسوخ کے تابع بناتے ہوئے تہران کو امریکہ کی ایک کالونی بنا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب معیشت شدید دباؤ، مہنگائی عروج پر اور عوام نئی جنگ کے خدشات سے پریشان ہیں، اس معاہدے نے ایران کے اندر ایک نئی سیاسی، معاشی اور نظریاتی بحث چھیڑ دی ہے۔
مبصرین کے بقول امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت نے جہاں خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا کی ہے، وہیں ایران کے اندر اس معاہدے پر شدید سیاسی اور عوامی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ایرانی قیادت اسے اپنی مزاحمت اور سفارتی کامیابی کا نتیجہ قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین اسے قومی خودمختاری کے لیے ایک خطرناک موڑ تصور کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران حالیہ مہینوں میں ایک تباہ کن جنگ، سخت معاشی دباؤ اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات سے گزر چکا ہے۔ ایسے میں حکومت کے لیے اس معاہدے کو ایک کامیابی کے طور پر پیش کرنا سیاسی ضرورت بھی ہے اور سفارتی حکمت عملی بھی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف سمیت کئی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے مسائل کے حل اور خطے میں ایک نئے دور کے آغاز کا ذریعہ بن سکتا ہے۔حکومتی مؤقف کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ نہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکا، نہ اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی ایران کے جوہری پروگرام یا علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکا۔ اسی لیے تہران اس معاہدے کو اپنی ثابت قدمی کا ثمر قرار دے رہا ہے۔تاہم اس کے برعکس سخت گیر سیاسی حلقے اس معاہدے پر گہرے تحفظات رکھتے ہیں۔ بعض ارکانِ پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کے معاملات سے وابستہ شخصیات نے اسے ایسی دستاویز قرار دیا ہے جو ایران کو امریکی اثر و رسوخ کے دائرے میں لے جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن پر اعتماد کرنا ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایک خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مخالفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ صرف اپوزیشن یا حکومت مخالف حلقوں تک محدود نہیں بلکہ نظام کے اندر موجود بااثر شخصیات کی جانب سے بھی سامنے آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدے کے باوجود یہ تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ ایران کے اندر مکمل سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے حالیہ فیصلوں کے پیچھے سب سے بڑی قوت معاشی دباؤ ہے۔ برسوں سے جاری پابندیوں، جنگی اخراجات، تیل کی برآمدات میں مشکلات، مہنگائی اور غیر ملکی زرمبادلہ تک محدود رسائی نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ عام شہریوں کے لیے نظریاتی بحثوں سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس معاہدے کے نتیجے میں روزمرہ زندگی آسان ہوگی یا نہیں۔ایرانی عوام کے ردعمل سے بھی یہی تقسیم واضح ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے نئی جنگ کے خطرات کم ہونے اور معاشی بہتری کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے ایک عارضی وقفہ قرار دیتے ہیں جس کے مستقبل کے نتائج ابھی غیر واضح ہیں۔ بعض حکومت مخالف حلقے تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر اس تمام بحران کے باوجود سیاسی تبدیلی نہیں آئی تو عوام کو اس تنازع سے کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
ادھر معاہدے کے کئی حساس نکات ابھی مذاکراتی مرحلے میں ہیں۔ افزودہ یورینیئم کا مستقبل، جوہری نگرانی کا نظام، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز اور لبنان سے متعلق معاملات ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوئے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو اس مفاہمت کو ایک نازک سفارتی مرحلہ بناتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کی اصل کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے ہوگا۔ اگر پابندیوں میں حقیقی نرمی آتی ہے، مہنگائی میں کمی ہوتی ہے، معیشت بحال ہوتی ہے اور خطے میں امن قائم رہتا ہے تو یہ معاہدہ ایران کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وعدے پورے نہ ہوئے یا نئی کشیدگی جنم لے گئی تو یہی مفاہمت ایک نئے سیاسی بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ
فی الحال ایران ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومت امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کو اپنی فتح قرار دے رہی ہے جبکہ مخالفین اسے اپنے لئے خطرہ گردانتے دکھائی دیتے ہیں اور عوام اس کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینے طے کریں گے کہ یہ معاہدہ واقعی ایک نئی شروعات ہے یا صرف ایک عارضی سیاسی وقفہ۔ایران کے لیے یہ معاہدہ محض سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ریاستی بیانیے، معاشی بقا اور عوامی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک مشکل کوشش ہے۔ اگر آنے والے مہینوں میں جنگی خطرات کم ہوتے ہیں اور معاشی دباؤ میں حقیقی کمی آتی ہے تو تہران اسے اپنی کامیابی ثابت کرے گا؛ لیکن اگر نتائج عوام تک نہ پہنچے تو یہی مفاہمت ایران کیلئے سب سے بڑی سیاسی آزمائش بن سکتی ہے۔