مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جب امریکہ اور ایران براہِ راست تصادم کے دہانے پر کھڑے تھے، اس وقت پاکستان نے ایک ایسے ثالث کا کردار ادا کیا جس نے دونوں حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ امن معاہدے نے نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرات کم کیے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی ایک مؤثر سفارتی کھلاڑی کے طور پر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان اس حساس معاملے میں مرکزی ثالث کیسے بنا، اس نے کیا سفارتی سرمایہ کاری کی، اور اس کردار کے بدلے اسلام آباد کو کیا سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی، جنگی ماحول اور سفارتی تعطل کے بعد سامنے آنے والا امن معاہدہ صرف دو ممالک کے تعلقات کی بحالی کی کوشش نہیں بلکہ خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اسلام آباد نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا پل بنایا بلکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی ساکھ تھی۔ ایک جانب اس کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط موجود ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بھی کئی دہائیوں پر محیط تعلقات ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور ایران تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور سماجی روابط بھی گہرے ہیں۔ پاکستان میں دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی موجود ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید اہم بناتی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی شراکت داری کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس نے واشنگٹن کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھا۔
اس پورے عمل میں پاکستانی قیادت خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں رہا۔ مختلف عالمی دارالحکومتوں میں ہونے والے سفارتی رابطوں، پس پردہ مذاکرات اور اعتماد سازی کی کوششوں نے پاکستان کو ثالثی کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ ماہرین کے مطابق عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے بھی اس عمل کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے لیے اس ثالثی کے کئی ممکنہ فوائد بھی ہیں۔ سب سے پہلے، ایک مؤثر امن ساز ملک کے طور پر اس کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں دہشت گردی اور سکیورٹی مسائل کے تناظر میں جس ملک کا تاثر متاثر ہوا تھا، وہ اب خود کو ایک ذمہ دار اور مثبت سفارتی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے علاقائی تنازعات، خصوصاً بھارت اور افغانستان سے متعلق معاملات میں زیادہ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلام آباد یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف ایک علاقائی فریق نہیں بلکہ مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے والا ملک بھی ہے۔
اقتصادی اعتبار سے بھی یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ مجوزہ گیس پائپ لائن منصوبہ، سرحدی تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ سکتے ہیں۔ اگر مستقبل میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔تاہم اس کامیابی کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں یا معاہدے پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آتی ہیں تو پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اس کردار کو ایک سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے بقول اس وقت پاکستان ایک نازک مگر اہم مقام پر کھڑا ہے۔ اگر یہ امن عمل کامیاب رہتا ہے تو اسلام آباد نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث اور امن ساز ملک کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنا سکتا ہے۔ تاہم حتمی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکہ اور ایران آئندہ مذاکرات میں اپنے اختلافات کو کس حد تک حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔