ایران سے سمگل ہو کر آنے والا سستا تیل بہت سے خاندانوں کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور خشک سالی نے لوگوں کو ایسے خطرناک پیشے کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں ہر سفر زندگی اور موت کے درمیان ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور سرحدی علاقوں کی محرومیاں اس غیر قانونی کاروبار کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ شدید گرمی میں تپتے ہوئے ویران راستے، موٹر سائیکل کے دونوں جانب لٹکتے سینکڑوں لیٹر پیٹرول کے ڈبے، مسلح تنازع سے متاثر علاقے اور ہر لمحہ دھماکے یا حادثے کا خطرہ۔ بلوچستان میں ہزاروں افراد کے لیے یہ کوئی فلمی منظر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
بلوچستان کے خشک، بنجر اور تپتے ہوئے میدانوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے لگتا ہے تو عام زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ لیکن انہی خطرناک حالات میں سینکڑوں موٹر سائیکل سوار روزانہ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں۔ ان کی موٹر سائیکلوں پر پیٹرول اور ڈیزل سے بھرے بھاری پلاسٹک کنٹینرز بندھے ہوتے ہیں اور وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک ایسے کاروبار کا حصہ بنتے ہیں جو بظاہر غیر قانونی ہے مگر ہزاروں خاندانوں کی معیشت کا سہارا بھی۔ ظفر مزار بھی انہی افراد میں شامل ہیں۔ ان کی موٹر سائیکل پر پانچ بڑے ڈبے لدے ہیں جن میں مجموعی طور پر تقریباً 350 لیٹر پیٹرول موجود ہے۔ یہ وزن موٹر سائیکل اور سوار دونوں کے لیے خطرناک حد تک زیادہ ہے، مگر مزار کے لیے یہی ان کے خاندان کی بقا کا ذریعہ ہے۔وہ بلوچستان کے مستونگ سے سمگل شدہ ایرانی پیٹرول خرید کر سندھ کے مختلف علاقوں تک پہنچاتے ہیں۔ راستے میں شدید گرمی، خراب سڑکیں، گرد آلود طوفان، حادثات اور سکیورٹی خطرات ان کا روز کا معمول ہیں۔ پیٹرول سے بھرے پلاسٹک کنٹینرز گرمی کے باعث نرم پڑ جاتے ہیں اور کسی بھی وقت رساؤ یا دھماکے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسے حادثات میں متعدد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔مزار کی کہانی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ بلوچستان کے لاکھوں لوگوں کی اجتماعی تصویر ہے۔ شدید خشک سالی نے ان سے کھیتی باڑی کا روزگار چھین لیا، جس کے بعد انہوں نے ایندھن کی ترسیل کا کام شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معاش موجود نہیں۔
بلوچستان میں غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ایرانی تیل کی سمگلنگ کو ایک متبادل معیشت کی شکل دے دی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد اس شعبے سے وابستہ ہو چکی ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی معاشی مجبوریوں کے باعث اسی کاروبار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایندھن کی سمگلنگ کے پس منظر میں علاقائی سیاست بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایران اپنے شہریوں کو سبسڈی پر پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایندھن سرحد پار پاکستان میں نسبتاً سستا پڑتا ہے۔ دوسری جانب عالمی پابندیاں، جنگی صورتحال اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس تجارت کو مزید منافع بخش بنا دیتی ہیں۔
پاکستانی حکام اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں، لیکن تقریباً 900 کلومیٹر طویل دشوار گزار سرحد پر مکمل نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومتی سطح پر یہ حقیقت بھی تسلیم کی جاتی ہے کہ بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں یہی کاروبار ہزاروں خاندانوں کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔تاہم حالیہ جنگی صورتحال نے سمگلروں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ پیٹرول خریدنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ فروخت کی قیمت میں خاطر خواہ فرق نہیں آیا۔ نتیجتاً ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے۔ مزار کے مطابق جو منافع پہلے روزانہ پانچ ہزار روپے تک پہنچ جاتا تھا، اب کم ہو کر تقریباً تین ہزار روپے رہ گیا ہے۔
اس تمام خطرے، غیر یقینی اور مشکلات کے باوجود مزار اور ان جیسے ہزاروں افراد روزانہ اپنے سفر پر نکلتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا انہیں موت کا خوف نہیں، تو ان کا جواب بلوچستان کے محروم طبقات کی پوری نفسیات کی عکاسی کرتا ہے: ’’مجھے ایک نہ ایک دن مرنا ہی ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ مجھے زندہ رکھے یا میری جان لے لے۔‘‘یہ الفاظ صرف ایک فرد کی بے بسی نہیں بلکہ اس خطے کی معاشی محرومی، ریاستی چیلنجز اور انسانی جدوجہد کی ایک گہری داستان ہیں۔