ہزاروں افراد کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے دعوؤں کے برعکس صرف چند سو کارکنوں کی موجودگی نے جہاں پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا غبارہ پنکچر کر دیا ہے وہیں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاسے کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر طاقت کے بڑے مظاہرے کی توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دی۔ پارٹی قیادت کی اپیلوں، سوشل میڈیا مہم اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششوں کے باوجود احتجاج میں شرکت توقعات سے کہیں کم رہی۔ اس صورتحال نے نہ صرف خیبرپختونخوا حکومت کی سیاسی طاقت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات، ناراض ارکان اسمبلی، بجٹ بحران اور تنظیمی کمزوریوں کو بھی ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ احتجاج سے وابستہ توقعات پوری نہ ہو سکیں، جس کے بعد پارٹی کے اندر اور باہر سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کی جانب سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت کی امید ظاہر کی گئی تھی، تاہم احتجاج میں شرکت توقعات سے کم رہی۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے اعلیٰ عہدیدار، وزرا اور دیگر رہنما سرکاری پروٹوکول کے ساتھ راولپنڈی پہنچے، لیکن کارکنوں کی نقل و حمل کے لیے ٹرانسپورٹ کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پارٹی کے کچھ ناراض ارکان اسمبلی نے اپنے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت سے روک دیا،جس کی وجہ سے کارکنان کی انتہائی قلیل تعداد نے احتجاج میں شریک ہوئی۔
احتجاج کے بعد پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے بیانات بھی توجہ کا مرکز بنے دکھائی دئیے۔ بعض رہنماؤں نے احتجاج میں کارکنان کی کمزور شرکت کی ذمہ داری رابطوں اور تنظیمی حکمت عملی پر ڈالی، جبکہ دیگر نے انتظامی رکاوٹوں اور سکیورٹی صورتحال کو اہم وجہ قرار دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اڈیالہ احتجاج کی کمزور حاضری صرف ایک احتجاج کی ناکامی یا کامیابی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پی ٹی آئی کی موجودہ تنظیمی حالت، داخلی اتحاد، حکومتی کارکردگی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کا بھی امتحان ہے۔ آنے والے دنوں میں بجٹ، پارٹی نظم و ضبط اور احتجاجی سیاست کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی اپنی سیاسی پوزیشن کو کس حد تک مستحکم رکھ پاتی ہے۔دوسری جانب پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاجی مہم جاری رہے گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی جدوجہد کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والا حالیہ احتجاج مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔