قصّہ ضیاء الحق دَور کے انتخابات اور میاں یٰسین وٹو کے گم ہونے کا

تحریر: نصرت جاوید

کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ ہمارے ہاں 8سال کے طویل مارشل لاء کے بعد 1985ء میں بھی عام انتخابات ہوئے تھے۔ تمام سیاسی جماعتیں ان دنوں ’’کالعدم‘‘ تھیں۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کے سوا کئی چھوٹی بڑی جماعتوں نے خود کو ’’تحریکِ بحالی جمہوریت (  Movement for the Restoration of Democracy)‘‘ نامی اتحاد میں یکجا کررکھا تھا۔ پیپلز پارٹی کے صفِ اوّل کے نمائندہ ہوتے ہوئے غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم اس کے سربراہ تھے۔
مذکورہ اتحاد جسے ایم آر ڈی پکارا جاتا تھا کئی حوالوں سے ایک حیران کن اتحاد تھا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ اس میں تحریک استقلال بھی شامل تھی جس کے بانی ایئرمارشل اصغر خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو ’’کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے‘‘ کا عہد باندھا تھا۔ اس اتحاد میں ولی خان بھی موجود تھے جن کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کو بھٹو حکومت نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں ’’پاکستان دشمن‘‘ کہلواتے ہوئے قابل تعزیر ٹھہرایا تھا۔ نظر بظاہر ’’لبرل او رروشن خیال‘‘ جماعتوں کے مذکورہ اتحاد میں جمعیت العلمائے اسلام بھی شامل تھی جس کے قائد مولانا مفتی محمود مرحوم بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے پاکستان قومی اتحاد (PNA)کے سربراہ تھے۔ مسلم لیگ کا ایک چھوٹا دھڑا بھی ملک قاسم مرحوم کی قیادت میں اس کے ساتھ تھا اور ملک قاسم کو بھٹو حکومت کے ابتدائی ایام میں بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ماضی کی تلخ ترین یادیں بھلاکر نام نہاد دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں مگر اب بحالی جمہوریت کی طرف یکجا تھیں۔ انہیں متحد رکھنے میں نوابزادہ نصراللہ خان کا صبر اور متانت کلیدی کردار کا حامل تھا۔
بہرحال جنرل ضیاء نے 1985ء میں انتخابات کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیاں بحال کرنے کا اعلان کیا تو ایم آر ڈی نے ان کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ وجہ اس کی یہ بتائی کہ مذکورہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کیلئے حلف نامے کے ذریعے یہ اعلان کرنا ضروری تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں ہیں۔ انتخابات گویا ’’غیر جماعتی بنیادوں‘‘ پر ہونا تھے اور ان میں شرکت کا مطلب سیاسی جماعتوں کو ’’کالعدم‘‘ ٹھہرائے جانے کی ’’حمایت‘‘ شمار ہوتا۔
اسلام آباد اور پنجاب کے شہری متوسط طبقے کی اکثریت مصر رہی کہ ’’غیر جماعتی‘‘ ہونے کی وجہ سے مذکورہ انتخابات سے عوام کی اکثریت دوری اختیار کرے گی۔ 1985ء کے انتخابات کا اعلان کرنے سے قبل جنرل ضیاء نے ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر بھی ’’منتخب‘‘ کروالیا تھا۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پولنگ سٹیشنوں پر ریفرنڈم کے روز ویرانی چھائی رہی۔ اسی باعث حبیب جالب مرحوم نے معصومیت سے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ’’ریفرنڈم تھا یا جن تھا؟‘‘
شہری متوسط طبقے میں مقبول رائے کے برعکس میں ذاتی طورپر عوام میں گھل مل کر ان کی رائے جاننے کو بے تاب تھا۔ صحافیانہ جستجو کی بدولت ہی 1984ء میں بھارت کے پہلے دورے کے بعد یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہوا تھا کہ راجیوگاندھی کو اپنی ماں کے قتل کے بعد ہوئے عام انتخابات میں اتنی نشستیں ملیں گی جو اس کا نانا پنڈت نہرو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ 1985ء کے ’’غیر جماعتی انتخابات‘‘ کے بارے میں عوامی رائے جاننے کے لئے لاریوں،بسوں اور ویگنوں میں عام مسافروں کی طرح کوہاٹ اور میانوالی سے ہوتے ہوئے سرگودھا، جھنگ، خوشاب اور مظفر گڑھ جیسے قصبوں تک گیا۔ شمال سے جنوب تک مرکزی شاہراہوں سے دور واقع قصبوں میں گزارے دنوں کی بدولت نتیجہ یہ اخذ کیا کہ عام آدمی روزمرہّ زندگی کے مسائل کی ترجمانی کیلئے قومی سطح کے اداروں میں ’’اپنے نمائندے‘‘ بھیجنے کو بے قرار ہے۔ شہری متوسط طبقے کی رائے کے برعکس وہ 1985ء کے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا خواہش مند تھا۔ ربّ کا صد شکر کہ انتخابات کے روز ہوئے ٹرن آئوٹ نے میرے مشاہدے کو درست ثابت کیا۔
مذکورہ انتخابات کے نتیجے میں جوقومی اسمبلی قائم ہوئی اس کی حلف برداری کی تقریب سے میں نے پارلیمانی رپورٹنگ کا آغاز کیا۔ پنجاب کے اکثر قصبوں میں انتخابی مہم کے دوران موجودگی کی بدولت نو منتخب اراکین اسمبلی سے ذاتی شناسائی ہوچکی تھی۔ ان سے گفتگو ہوئی تو وہ خلقِ خدا کو یہ پیغام دینے کو بے چین نظر آئے کہ ان کا بطور رکن اسمبلی انتخاب جنرل ضیاء کی سرپرستی کی بدولت نہیں ہوا۔ وہ ہماری تاریخ کی مشکل ترین انتخابی مہم کے نتیجے میں اپنی محنت سے قومی اسمبلی تک پہنچے ہیں۔ میڈیا نے مگر شہری متوسط طبقے کی نگاہوں میں انہیں مارشل لائکا ایجنٹ یا کارندہ بنادیا ہے۔ وہ اپنے بارے میں پھیلا ’’ایجنٹی‘‘ والا تاثر جھٹلانے کی راہ ڈھونڈرہے تھے۔
1985ء کے ’’غیر جماعتی انتخابات‘‘ کی بدولت قائم ہوئی قومی اسمبلی سے قبل جنرل ضیاء کی نامزد کردہ ’’مجلس شوریٰ‘‘ ہوا کرتی تھی۔ خواجہ آصف مرحوم کے والد خواجہ صفدر اس کے سپیکر تھے۔ جنرل ضیاء کی خواہش تھی کہ انہیں قومی اسمبلی کا سپیکر بھی ’’منتخب‘‘کرلیا جائے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب چونکہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونا تھا اس لئے خود پر لگی ’’ایجنٹی‘‘ کی تہمت کا داغ دھونے کے لئے وہ خواجہ صفدر کا متبادل امیدوار ڈھونڈرہے تھے۔
ملکی سیاست کے اس اہم موڑ پر شکرگڑھ کے دیرینہ سیاسی کھلاڑی چودھری انور عزیز مرحوم متحرک ہوئے۔ کئی وجوہات کی بنا پر وہ خواجہ صفدر کے دیرینہ سیاسی حریف تھے۔ انہوں نے اپنی خودمختاری دکھانے کو بے چین نو منتخب اراکین اسمبلی کو تجویز دی کہ خواجہ صفدر کے مقابلے میں اوکاڑہ کے نواحی قصبے سے ابھرے یٰسین خان وٹو کا ساتھ دیا جائے۔ وٹو مرحوم انتہائی زیرک اور تجربہ کار سیاستدان تھے۔ بنیادی جمہوریت سے سفر کرتے ہوئے ایوب خان کے دور میں صوبائی وزیر تعلیم تعینات ہوئے۔ یاد رہے کہ ان دنوں آج کا پورا پاکستان ون یونٹ کی بدولت ایک صوبہ تھا جو ’’مغربی پاکستان‘‘ کہلاتا تھا۔ اس صوبے کے وزیر ریلوے محمد خان جونیجو تھے جنہیں 1985ء کے انتخابات کے بعد جنرل ضیاء نے وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔ 1985ء کے انتخاب سے قبل یٰسین وٹو پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے کر گوشہ نشینی اختیار کرچکے تھے۔ چودھری انور عزیز بھی مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے وٹو صاحب کے ہمراہ رکن رہے تھے۔ اپنے دیرینہ تعلقات استعمال کرتے ہوئے انہوں نے وٹو صاحب کو خواجہ صفدر کے مقابلے میں سپیکر کے عہدے پرمقابلے کوقائل کردیا۔ وہ رضامند ہوگئے تو جنرل ضیاء نے نو منتخب اراکینِ اسمبلی کے وفود کے ساتھ ملاقاتیں شروع کردیں۔ ’’حسین اتفاق‘ ‘ مگر یہ ہوا کہ قومی اسمبلی کے جس پہلے وفد سے جنرل ضیاء نے ملنے کا فیصلہ کیا اس کا تعلق اوکاڑہ سے تھا۔ مذکورہ ملاقات کے بعد اراکینِ اسمبلی رخصت ہونے لگے تو جنرل ضیاء نے وٹو صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مجھے خبر دی گئی ہے کہ چند افراد آپ کو خواجہ صاحب کے خلاف کھڑا ہونے کو اْکسارہے ہیں۔ مجھے اگرچہ امید ہے کہ ذہین وتجربہ کار شخص ہوتے ہوئے آپ میری پسند کے امیدوار کا ساتھ دیں گے‘‘۔ جنرل ضیاء کا براہ راست پیغام سننے کے بعد وٹو صاحب اس ملاقات کے بعد راولپنڈی میں اپنے ایک قریبی دوست کے گھر جاکر ’’چھپ‘‘ گئے۔ سپیکر کے عہدے کے لئے ان کی انتخابی مہم چلانے کو تیار چودھری انور عزیز کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود وہ وٹو صاحب کا ’’سراغ‘‘ نہ لگاپائے۔ ہنگامی حالات میں بالآخر سید فخر امام کو خواجہ صفدر کے مقابلے کے لئے تیار کرنا پڑا اور انہوں نے واضح اکثریت سے جنرل ضیاء کے نامزد کردہ خواجہ صفدر کو شکست سے دو چار کردیا۔
سپیکر کے انتخاب سے ایک روز قبل مگرچودھری انور عزیز مرحوم بہت تگ ودو کے بعد یٰسین وٹو صاحب کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ راولپنڈی میں رہائش پذیر ایک بینک کے اعلیٰ افسر کے ہاں ’’چھپے‘‘ہوئے تھے۔ مجھے اپنے ہمراہ لے کر چودھری صاحب اس گھر پہنچ گئے اور وٹو صاحب سے ملاقات کے دوران نہایت طیش میں انہیں ’’بکری‘‘ ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ غضب کے عالم میں انہوں نے وٹو برادری کے بارے میں بھی خلق خدا میں مقبول تعصبات کا اظہار شروع کردیا۔ ان میں سے ایک دعویٰ کرتا ہے کہ ’’تھانے دار‘‘ کو ساتھ ملائے بغیر وٹو حضرات ’’نقب زنی‘‘ کی جرأت نہیں دکھاتے۔ وٹو صاحب چودھری صاحب کے اشتعال میں دیئے ہذیانی طعنے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے سنتے رہے۔ ہذیانی طوفان تھم گیا تو اپنے دوست ’’انور‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے محض ایک فقرہ کہا جس میں برسات کے موسم میں بے تحاشہ تعداد میں نمودار ہوئے ’’انقلابیوں‘‘ کا ذکر تھا۔ ’’انقلابیوں‘‘ کی ایک کھیپ جو موسم گزرجانے کے بعد کہیں نظر نہیں آتی۔ یٰسین وٹو مرحوم کا ادا کیا یہ فقرہ گزشتہ چند دنوں سے مجھے نجانے کیوں یاد آئے چلا جارہا ہے۔

Back to top button