جنگ ختم،امریکا اور ایران نے معاہدے پر دستخط کر دئیے، معاہدہ نافذ

امریکا اور ایران نے طے شدہ شیڈول سے قبل ہی جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے ہیں، وائٹ ہاؤس اور تہران نے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کرنے کی تصدیق کر دی۔معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدے پر الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد یہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور نے معاہدے کے حتمی متن کی منظوری دیتے ہوئے اس پر دستخط کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبے کے تحت اس معاہدے پر دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے دوران ہونا تھے، تاہم حالات کی حساسیت اور آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضرورت کے پیش نظر دونوں فریقوں نے مقررہ وقت سے پہلے ہی تمام رسمی کارروائی مکمل کر لی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ فعال بنانے کے معاملے پر پہلے ہی اتفاق رائے موجود تھا، جس کے باعث معاہدے پر فوری عملدرآمد کو ترجیح دی گئی۔ اس دوران معاہدے کے متن اور سفارتی طریقہ کار سے متعلق دونوں جانب تفصیلی مشاورت بھی جاری رہی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن منظور کر لیا گیا ہے اور دونوں صدور اس پر الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں۔ترجمان کے مطابق جنیوا میں سفارتی رابطے اور مذاکراتی سرگرمیاں جاری رہیں گی، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے بارے میں حتمی فیصلہ جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے بھی معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں اور اب توجہ خطے میں دیرپا استحکام اور کشیدگی کے مستقل خاتمے پر مرکوز ہے۔

Back to top button