نواز شریف کی رپورٹ بنانے والا ڈاکٹر بمقابلہ پریانکا چوپڑا

وزیراعظم کے بڑبولے معاون خصوصی شہباز گل نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں اب یہ عجیب بونگی مار دی ہے کہ انکی رپورٹ تیار کرنے والے ڈاکٹر فیاض شال کا ماضی میں انڈین اداکارہ پریانکا چوپڑہ سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ چنانچہ ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ اگر کبھی ڈاکٹر کا پریانکا سے جھگڑا ہوا بھی ہو تو اس سے نواز شریف کی طبی رپورٹ کا کیا تعلق بنتا ہے۔

شہباز گل نے انڈین میڈیا کی ایک خبر ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیشہ کی طرح یہ رام کہانی بھی اندیا والوں نے لکھوا کر دی ہے؟ ان ڈاکٹر صاحب کا تعلق اصل میں ہندوستان سے ہے اور ان کے کچھ کارنامے جو اخبار میں چھپ چکے وہ ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ بونگے معاون خصوصی کی جانب سے شیئر کی گئی خبر کے مطابق ڈاکٹر فیاض شال کا ماضی میں بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کیساتھ دبئی جانے والی پرواز کے دوران جھگڑا ہوا تھا۔ انہوں نے 12 برس پہلے کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 12 مارچ 2011ء کو انڈیا ٹی وی میں چھپی خبر کے مطابق پریانکا چوپڑا نے کہا تھا کہ دوران پرواز ڈاکٹر فیاض شال نے میرے اعتراضات کے باوجود مجھے اپنے فون پر فلمانا شروع کر دیا۔

وہ شراب کے نشے میں تھے اور دھمکیاں دیتے رہے کہ وہ اپنے دوست دبئی کے شیخ کو فون کرکے مجھے مصیبت میں ڈال دیں گے۔ پریانکا چوپڑا نے کہا میں نے اسے ایسا کرنے کا چیلنج دھ دیا کیونکہ میں نے کوئی اصول نہیں توڑا تھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر نے متعدد بار مجھ سے معافی مانگی۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق پریانکا نے اس معاملے پر ڈاکٹر شال کے خلاف بدتمیزی کی شکایت بھی لولیس میں درج کرائی تھی۔

واضح رہے کہ 60 سالہ ڈاکٹر فیاض شال ایک انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ ہیں، جو کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اور نواز شریف جیسے ہائی پروفائل مریضوں کا علاج کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک نواز شریف مکمل ٹھیک نہ ہو جائیں انھیں سفر نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نواز شریف کو بہترین علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ رپورٹ میں سفر نہ کرنے کی سفارش کی تھی اب بھی وہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

نواز شریف کی واپسی سے متعلق حکومتی خط توہین عدالت ہے

یاد رہے کہ نواز شریف کی یہ میڈیکل رپورٹس انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض شال نے تیار کی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق کرونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر نواز شریف کو ہرگز سفر نہیں کرنا چاہیے۔ نواز شریف کو ایئرپورٹ اور عوامی مقامات پر ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ جب تک ان کی کرونری انجیو گرامی مکمل نہ ہو اس وقت تک اپنے ہسپتال سے دور نہ جائیں کیونکہ مختلف امراض کی وجہ سے ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف ابھی شدید ذہنی دباؤ میں ہیں، اس سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے، وہ ابھی اپنی ادویات جاری رکھیں۔ رپورٹ میں ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کلثوم نوازکی وفات کے بعد نواز شریف زیادہ دباؤ میں ہیں۔ وہ ذہنی دباؤ کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، کھلی فضا میں چہل قدمی کریں۔ تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کی نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو دل اور خون کے متعدد مسائل ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے ماضی میں 2010 اور 2016 میں دو مرتبہ دل کے آپریشنز ہو چکے ہیں اور وہ 2019 میں تھرومبو کائیٹو پینیا سے بھی گزرے، جسکے بعد حکومت نے انہیں علاج کے لئے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں ہے۔

Back to top button