جنوبی بیروت حملے کے بعد امریکا سے مذاکرات روک دیے تھے: باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کی شہادت کے بعد تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے تھے۔
ایرانی سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت شہید ہوئے، جس کے بعد ایران نے مذاکرات کا عمل فوری طور پر روک دیا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ اسی رات حملے کا جواب اسی انداز میں دیا جائے گا، جبکہ صہیونی حکومت کی جانب سے ردعمل کی صورت میں پورے خطے کو نشانہ بنانے کا انتباہ بھی دیا گیا تھا۔
ایرانی چیف مذاکرات کار کے مطابق اسی رات ناکہ بندی ختم کر دی گئی تھی، تاہم یہ اقدام معاہدے کے 30 روز مکمل ہونے کے بعد نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ ناکہ بندی اسی رات ختم کی جا رہی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کھولے گا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ کی یہ بات سامنے آنے پر انہوں نے معاملہ روک دیا اور واضح کیا کہ ایران نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق ثالثوں کو بھی پیغام دیا گیا کہ اگر ٹوئٹ کا دوسرا حصہ فوری طور پر حذف نہ کیا گیا تو ایران اپنے اعلان کردہ شدت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 58 منٹ بعد ٹرمپ نے ٹوئٹ کا دوسرا حصہ حذف کردیا اور مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت ہفتے کے روز کھولی جائے گی۔
امریکا سے مذاکرات کی بحالی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا: ایرانی وزیر خارجہ
باقر قالیباف نے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ یہ عمل دراصل جدوجہد کا ایک نام ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کر دی گئی تھی جو اب تک جاری ہے۔
