نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کو سزائے موت کا امکان

 

نور مقدم قتل کیس کا ٹرائل 4 ماہ بعد مکمل ہو گیا ہے

اور مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 21 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو 24 فروری کو سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ کہ اسلام آباد کے ایک سابق ڈپلومیٹ کی بیٹی نور مقدم کو اس کے دوست ظاہر جعفر نے تیز دھار آلے سے قتل کرنے کے بعد اس کا سر دھڑ سے جدا کر دیا تھا۔ ملزم نے پہلے اعتراف جرم کیا لیکن ٹرائل مکمل ہونے سے چند روز پہلے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

21 فروری کو کیس کی آخری سماعت کے دوران ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت میں دیگر ملزمان کے ہمراہ پیش کیا گیا۔

کیس کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نور مقدم قتل کیس میں ڈی وی آر، سی ڈی آر، فارنزک اور ڈی این اے پرمبنی ٹھوس شواہد ہیں، نورمقدم قتل کیس میں تمام شواہد سائنسی بنیادپر شامل کیے گئے ہیں، ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن نے کیس ثابت کردیا ہے، لہذا عدالت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے۔ پراسیکیوٹر رانا حسن نے کہا کہ ایک باپ کی کیاحالت ہوگی جب وہ اپنی بیٹی کی سربریدہ لاش دیکھےگا، سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ظاہرجعفر جائے وقوعہ سے گرفتار ہوا، ڈی وی آر کو مستند قرار دیا گیا اور آخری ثبوت کے طور پر لیا گیا ہے، مرکزی ملزم ظاہر جعفر جائے وقوعہ سے آلہ قتل کے ساتھ گرفتار ہوا،

اس کے کپڑوں پر نور مقدم کا خون لگا ہوا تھا لہٰذا اس کے بعد کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ قاتل وہی ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس کیس کو ملک کا بچہ بچہ دیکھ رہا ہے اور اسکا فیصلہ بتائے گا کہ اس ملک کا نظام انصاف کیسے چل رہا ہے لہٰذا نورمقدم قتل کیس کو عدالت مثالی کیس بنائے اور ملزمان کو زیادہ سے زیادہ سزا  دی جائے۔

یاد رہے کہ جب کیس ختم ہونے کے قریب آیا تو ملزم اعتراف قتل سے پھر گیا تھا اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ قتل والے روز نور نے اس کے گھر پر ایک ڈرگ پارٹی رکھوائی تھی اور جب وہ ہوش میں آیا تو واردات ہو چکی تھی۔ نور مقدم قتل کیس کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے روز ملزم ظاہر جعفر کے گھر کوئی ڈرگ پارٹی تھی نہ ہی سی سی ٹی وی میں ایسی کوئی بات نظر آ رہی ہے، یہ سٹوری بھی ملزم کے وکیل نے گھڑی ہے، نور مقدم کے ظاہر جعفر کے گھر میں داخل ہونے کے بعد سے قتل تک تقریباً 38 گھنٹے بنتے ہیں اور ڈی وی آر کے مطابق جب نور اس گھر میں داخل ہوئیںن تو ان کے پاس صرف ایک ہینڈ بیگ تھا۔

لیکن ملزم جب 19 جولائی کو ایئرپورٹ جانے لگا تو اس کے استعمال کی چیزیں واضع نظر آ رہی ہیں، ظاہر جعفر نے خود تسلیم کیا کہ قتل اس کے گھر میں ہوا بلکہ اس کے بیڈ روم میں ہوا۔ شاہ خاور کا کہنا تھا کہ شریک ملزمان بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے واردات ہونے کے بعد مقتول کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی میں واضح ہے کہ نور مقدم نے اپنی جان بچانے کے لیے کھڑکی سے چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی تو ظاہر جعفر کے کہنے پر شریک ملزم افتخار نے اسے روکا جس کے بعد ظاہر جعفر نے ٹیرس سے چھلانگ لگائی اور نور کو چوکیدار کے کیپبن میں بند کر دیا۔

مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ دو شریک ملزموں جان محمد اور جمیل نے نور کے یرغمال ہونے کا پتہ ہونے کے باوجود پولیس کو آگاہ نہیں کیا، 20 جولائی کو مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا جبکہ 24 جولائی 2021 کو مرکزی ملزم نے ضمنی بیان میں کچھ اعترافات کیے جن کے بعد ان کے موکل نے مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر، عصمت آدم جی و دیگر ملزموں کو نامزد کیا۔

مرکزی ملزم سمیت کسی ملزم نے چالان یا ضمنی چلان کو چیلنج کیا نہ ہی کسی مرحلے پر یا کسی فورم پر تفتیش درست نہ ہونے کو چیلنج کیا گیا، شاہ خاور کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کا فوٹو گرائمیٹری ٹیسٹ بھی مثبت ہے یعنی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی اور ملزم کی شکل میچ ہو چکی ہے۔ لہذا ملزم کو قتل کے جرم میں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی جائے۔

Noor Muqadam’s killer Zahir likely to be sentenced to death video

Back to top button