کیا اپوزیشن مخالف جلسے کرنے والا پہلا وزیراعظم جا رہا ہے؟

ملکی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وزیر اعظم نے اپنی اپوزیشن کے خلاف عوامی رابطہ مہم کے تحت جلسے شروع کر دیے ہیں خصوصا جب اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان ہو چکا ہے۔ تاہم منڈی بہاوالدین میں ہونے والے پہلے ہی جلسے کی ناکامی نے عمران خان کی عوامی مقبولیت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے تو اقتدار سے بے دخلی کے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہوئے "مجھے کیوں نکالا” کا بیانیہ دیا تھا لیکن عمران خان ابھی سے سڑکوں پر آ کر اپنے نکالے جانے کا تاثر مضبوط کر رہے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں اور فروری اور مارچ میں پی پی پی اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کرنے کے اعلان کے بعد کپتان اپنی حکومت خطرے میں دیکھتے ہوئے سرگرم ہوگئے ہیں اور انہوں نے ملک گیر رابطہ مہم کے تحت جلسے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن منڈی بہاوالدین میں ہونے والے پہلے ہی جلسے کے شرکاء کی مایوس کن تعداد نے کپتان کی پریشانی میں اور بھی اضافہ کردیا ہے۔

منڈی بہاوالدین کے جلسے میں عمران خان نے تقریبا وہی باتیں کیں جو وہ نواز شریف کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک میں کنٹینر پر چڑھ کر کیا کرتے تھے۔ حکومت میں ساڑھے تین برس سے زائد گزرنے کے باوجود موصوف بجائے حکومتی کارکردگی کے ذریعے عوام کو ریلیف پہنچانے کی کوشش کریں، وہ اب بھی ایک اپوزیشن لیڈر کی طرح اپنے سیاسی مخالفین کو گھسیٹنے اور جیلوں میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس سے ان کی بڑھتی ہوئی فرسٹریشن اور پریشانی کا اظہار ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا خود میدان میں نکل کر اپوزیشن کو چیلنج کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہیں اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں نہایت رازداری کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کی تیاری میں مصروف ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے چند روز میں اچانک کوئی سرپرائز دیں گی۔ مبصرین کے مطابق منڈی بہاؤ الدین میں جلسے سے خطاب میں وزیرِ اعظم کی تقریر میں وہ رنگ نظر آیا جو بطور اپوزیشن رہنما اُن کی تقریروں میں ہوتا تھا۔

عمران خان نے حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اُن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کی اس لیے جلدی ہے تاکہ اُنہیں این آر او مل سکے۔ تاہم وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جب تک وہ زندہ ہیں اپوزیشن رہنماؤں کو این آر او نہیں ملے گا۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ عمران خان حزبِِ اختلاف کی اپنے خلاف صف بندی سے کافی پریشان نظر آتے ہیں جس کا جواب دینے کے لیے وہ خود بھی متحرک ہوئے ہیں اور اب جلسوں میں اپنی پریشانی چھپانے کے لئے شرکاء کو تحریک عدم اعتماد سے نہ گھبرا نے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ویڈیو اسکینڈل والی طیبہ کی چیئرمین نیب کیخلاف کارروائی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی منڈی بہاوالدین میں ہونے والی تقریر کا متن لگ بھگ وہی تھا جو اکثر وہ اپنی سیاسی تقریروں میں کرتے ہیں۔ مظہر کا کہنا تھا کہ جب حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو عمران خان کو بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ بھی عوامی رابطہ مہم شروع کریں۔

البتہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ملک میں معاشی مسائل ہوں اور لوگ مہنگائی سے پریشان ہوں تو ایسے میں وزیرِ اعظم کو یوں عوام میں جا کر اپوزیشن پر تنقید کے بجائے خاموشی سے عوام کو ریلیف دینے پر کام کرنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ساڑھے تین سال برسر اقتدار میں رہنے کے بعد بھی اگر آپ عوام میں جاکر تقریروں میں انہیں ریلیف دینے کے اعلان کی بجائے صرف اپوزیشن کو گالیاں دیتے رہیں گے تو لوگ آپ کو سننے کیوں آئینگے اور شاید اسی وجہ سے ان کا پہلا ہی جلسہ ناکامی سے دوچار ہوا ہے، لہذٰا مظہر عباس کے خیال میں عمران کے لیے یہ وقت جلسے، جلوسوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کے بقول عمران خان سمجھتے ہیں کہ جب حزبِ اختلاف کی جماعتیں اُن کے خلاف منظم ہو رہی ہیں تو انہیں بھی عوام میں جا کر اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کرنی چاہیے۔ تاہم بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں اور شاید اِسی لیے وہ اب تک اپوزیشن مخالف کرپشن بیانی ہی آگے بڑھا رہے ہیں حالانکہ وہ اپنے دور حکومت میں کسی ایک بھی سیاسی رہنما کے خلاف کوئی کرپشن کیس ثابت نہیں کر پائے۔

نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ عمران خان ایسا سیاسی ماحول بنانا چاہتے ہیں جس سے لگے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد غیر ضروری اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اُن کے مطابق اگر عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آ بھی جاتی ہے تو ساری بات نمبروں گیم کی ہو گی لیکن اس معاملے پر مکمل خاموشی ہے اور سب کچھ نہایت رازداری کے ساتھ ہو رہا ہے حالانکہ حزبَِ اختلاف کی جماعتیں یہ دعوٰٰی کر رہی ہیں کہ انہوں نے عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لیے مطلوبہ نمبرز حاصل کر لیے ہیں۔

مظہر عباس کی رائے میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتوں پر وزیرِ اعظم قدرے پریشان ہیں۔ اُن کے بقول خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج اور ضمنی انتخابات میں پے درپے شکست پر وزیرِ اعظم کو تشویش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد اُنہوں نے پارٹی تنظیمیں بھی تحلیل کر دی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اپوزیشن جماعتیں حکومت گرانے کے لیے زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہیں اور اسی لیے میڈیا میں ڈینگیں مارنے کی بجائے خاموشی سے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ جب حکومتیں عوامی مسائل کے حل چھوڑ کر خود اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں میدان میں آ جائیں تو اس سے نہ صرف حکومت کی کمزوری کا تاثر ابھرتا ہے بلکہ اس کی کارکردگی پر بھی فرق پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت بھی جلسے کرے گی تو ملک کون چلائے گا؟

Back to top button