ویڈیو اسکینڈل والی طیبہ کی چیئرمین نیب کیخلاف کارروائی

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی نازیبا گفتگو پر مبنی آڈیوز اور ویڈیوز مارکیٹ کرنے والی خاتون طیبہ فاروق عرف طیبہ گل نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شوہر فاروق نول کے خلاف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا من گھڑت کیس بنانے پر چئیرمین سمیت نیب حکام کو قانونی نوٹس بھجوا کر کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کی قابل اعتراض آڈیوز اور ویڈیوز لیک کرنے والی خاتون طیبہ فاروق نول عرف طیبہ گل اور ان کے شوہر فاروق نول کو لاہور کی احتساب عدالت نے 16 فروری 2021 کو دو کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام سے باعزت بری کردیا تھا۔

ملزمان کے وکیل منیر بھٹی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ انکے موکلین کے خلاف مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا اور اس کو عدالت نے میرٹ پر خارج کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ایک انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں تھا اور نیب کے اپنے قوانین پر بھی پورا نہیں اترتا تھا یہی وجہ ہےکہ عدالت نے میاں بیوی کی بریت کی درخواست منظور کر لی تھی۔ منیر بھٹی کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان جانتا ہے کہ ان کی موکلہ نے چیئرمین نیب پر الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔

اس معاملے میں طیبہ فاروق کا موقف یہی رہا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال سے ان کی پہلی ملاقات لاپتہ افراد کمیشن میں اپنے شوہر کے ساتھ ہوئی تھی۔ طیبہ فاروق کے مطابق ان کے شوہر بزنس مین ہیں اور وہ خود قانون کی طالبہ ہیں۔ ان کے شوہر کی چچی گم شدہ افراد میں شامل ہیں۔ طیبہ کا موقف ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ان کی چچی کی بازیابی کے لئے مسنگ پرسنز کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال سے ملنے گئی تھیں جو کہ نیب کے چئیرمین بھی ہیں۔ طیبہ فاروق نے الزام لگایا کہ ملاقات کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان کے شوہر کی موجودگی میں مجھ سے میرا فون نمبر لیا۔

اس کے بعد چیرمین نیب مجھے ہراساں کرتے رہے۔ جاوید اقبال مجھے اپنے گھر اور اسلام آباد کلب میں ملنے کا کہتے رہے۔ میں نے چیرمین نیب کے غیر اخلاقی مطالبات نہیں مانے تو ہم پر جھوٹے مقدمات بنانے دیے گے۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے یا میرے شوہر نے نہ تو کبھی کوئی کرپشن کی اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا لیکن پھر بھی نیب نے مجھے میرے شوہر سمیت گرفتار کر لیا۔

کیا اپوزیشن مخالف جلسے کرنے والا پہلا وزیراعظم جا رہا ہے؟

طیبہ کے مطابق 15 جنوری 2019 کی صبح میرے شوہر کو نیب نے اسلام آباد سے اٹھا لیا۔ اسی رات ساڑھے 12 بجے مجھے بھی اٹھا لیا گیا۔ ہمیں موٹر وے کے ذریعے نیب لاہور آفس لے جایا گیا۔ نیب لاہور آفس میں میرے کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی۔ اگلے دن سہ پہر چار بجے ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ مجھے عدالت نے جیل بھجوا دیا جہاں سے چار مہینے بعد مئی 2019 میں رہائی ملی۔ طیبہ کا کہنا تھا کہ میرے شوہر پھر بھی قید رہے۔ ہمارے خلاف 56 جھوٹی درخواستیں فائل کروائی گئیں۔

میرے بینک اکاونٹ میں صرف پانچ لاکھ روپے تھے۔ میرے شوہر کے اکاونٹ میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم تھی۔ طیبہ کا کہنا ہے کہ میرا شوہر بزنس مین ہے۔ میں نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے تنگ آ کر نیب چئیرمین کے خلاف زبان کھولی تھی جسکے بعد میرے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کرا دیے گئے۔

یاد رہے کہ مئی 2019 میں جاوید اقبال کی ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس کی نیب نے سختی سے تردید کی تھی۔ نجی ٹی وی چینل نیوز ون پر نشر ہونے والی ویڈیو میں چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ نازیبا گفتگو کرتے پائے گئے جس کے اختتام پر انہوں نے اٹھ کر خاتون کو گلے لگایا اور پھر چوما بھی۔

اسکے بعد انکی ایک آڈیو بھی سامنے آئی جس میں چیئرمین نیب ایک خاتون کے ساتھ نازیبا گفتگو فرما رہے تھے۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں جسٹس جاوید اقبال خاتون کو بتا رہے تھے کہ انہوں نے اگلی ملاقات کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کا بندوبست کیا ہے جہاں گرم پانی اور تولیے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ وہ یہ گفتگو مبینہ طور پر طیبہ گل نامی خاتون سے کر رہے تھے جسکا شوہر تب نیب کی تحویل میں تھا۔

اگرچہ یہ نازیبا ویڈیو اور آڈیو وائرل ہونے کے بعد چیئرمین نیب کی جانب سے ایک باقاعدہ انکوائری کروانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم آج تک نہ تو نیب نے اس کی کوئی تفتیش کی اور نہ ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ پتہ چلانے کی کوشش کی کہ آیا یہ ویڈیو اصلی تھی یا جعلی اور کس نے ادے وائرل کروایا تھا۔ 19 نومبر 2019 کو طیبہ گل کے ساتھ چیئرمین نیب کی مزید ایک آڈیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

طیبہ فاروق نول پر الزام تھا کہ انہوں نے شوہر کو مقدمات سے بچانے کے لیے جسٹس جاوید اقبال سے تعلقات بڑھا کر ان کی آڈیو ویڈیو ریکارڈ کر کے لیک کیں، تاہم نیب نے ان پر مزید مقدمات بنا دیے جن سے بچنے کے لئے انہیں دو سال قانونی جنگ لڑنا پڑی۔ تاہم اب چونکہ طیبہ فاروق نول نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرلی ہے اس لئے انہوں نے اپنے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے والے نیب اہلکاروں کو قانونی نوٹس بھجوا کر کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا یے۔

Back to top button