او آئی سی وزارتی کانفرنس اختتام پذیر، پاکستان نےسربراہی سنبھال لی

اسلامی تعاون تنظیم کی 2 روزہ 9ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئی، جبکہ پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی۔

کانفرنس سے چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، اسلامی تعاون تنظیم کے عہدیداران اور دیگر غیر ملکی مندوبین نے خطاب کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے سسٹنٹ سیکریٹری جنرل طارق علی بخیت، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے آئندہ دو سال کے لیے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی سربراہی سنبھال لی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کانفرنس کی سربراہی باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کر دی گئی ہے، جو اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پاکستان پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ، رکن ممالک، شراکت دار ممالک، وزرا، وفود کے سربراہان اور دیگر نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال شرکت کے باعث دو روزہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ اختتامی اجلاس میں کانفرنس کی مشاورت کے نتائج کی منظوری دی گئی، جس میں رکن ممالک نے مسلم دنیا میں خواتین کے معاشی، سیاسی اور سماجی اختیارات میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو ترقی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ متوازن، خوشحال اور جامع معاشروں کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کانفرنس کے دوران خصوصی نشستوں میں ڈیجیٹل دور کے مواقع اور چیلنجز پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ رکن ممالک نے عزم کیا ہے کہ خواتین کو جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عملی کامیابیوں میں تبدیل کر سکیں اور اپنے خاندانوں، معاشروں اور قومی معیشتوں میں مؤثر کردار ادا کریں۔

Back to top button